Urdu book · زلزلۂ قیامت

یہ وقت ہماری طرف دوڑا چلا آرہا ہے

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ وقت ہماری طرف دوڑا چلا آرہا ہے ہماری دنیا میں جو سب سے بڑا حادثہ پیش آرہا ہے وہ یہ کہ یہاں بسنے والے انسانوں میں سے ہر روز تقریباً چھ لاکھ آدمی مرجاتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ موت کے فرشتے۔ کل کے لئے جن چھے لاکھ آدمیوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں ، اس میں اس زمین پر چلنے والوں میں سے کس کس کا نام ہو۔ ہم میں سے ہر شخص کو موت آنی ہے۔ مگر ہم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی۔ اور جن لوگوں کے درمیان ہم زندگی گزار رہے ہیں، ان کے متعلق بھی کچھ نہیں معلوم کہ ان میں سے کون کل اٹھا لیا جائے گا۔ اور کون کل کے بعد ہمارا پیغام سننے کے لئے باقی رہے گا۔ یہ آنے والا وقت ہم میں سے ہر شخص کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ ہر زندہ انسان اس خطرے میں مبتلا ہے کہ کل اس کی موت آجائے اور اس کے بعد نہ اس کے لئے سننے کا موقع باقی رہے اور نہ ہمارے لئے سنانے کا۔ یہ صورت حال بتا رہی ہے کہ کرنے کا اصل کام کیا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص آخرت کی فکر کرے اور دوسرے انسانوں کو زندگی کے اس حقیقی مسئلے سے آگاہ کرے ۔ دنیا کی کی آبادی اگر تین ارب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو تین ارب کام کرنے ہیں۔ کیوں کہ آج کا ہر انسان حقیقت سے غافل ہے۔ ہر آدمی اس بات کا حاجت مند ہے کہ اس کو حقیقت کا علم پہنچایا جائے ۔ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ہماری اصل زندگی کا آغاز ہے۔ موت در اصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ کائنات کی عدالت میں آخری فیصلے کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا ۔ یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے ۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے۔ مگر جس کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔ فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا غیر اہم کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کرتا۔ " ہمیں کیا کرنا ہے “ اس سوال کا جواب صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہمیں اپنے آپ کو اور دوسرے بندگانِ خدا کو آگ کے عذاب سے بچانا ہے۔ قرآن نے زندگی کا جو تصور دیا ہے، اس کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس آنے والے دن کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچایا اور دوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا ، یہی مسلمان کا اصل کام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page