Urdu book · زلزلۂ قیامت

اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

اب سے ہزار سال بعد ہم لوگ ، حتیٰ کہ مارکس ، اینجلس اور لینن سب مضحکہ خیز دکھائی دیں گے۔ یہ بات اگرچہ انھوں نے سیاسی اور اقتصادی نظریات کے پہلو سے کہی تھی ، مگر موت نے شاید صرف دس سال بعد انھیں بتا دیا ہوگا کہ یہ بات ایک اور معنی میں بھی صحیح ہے۔ موت سے پہلے آدمی اپنی ترقی کے لئے یا اپنی شخصیت کو بنانے کے لئے جو کچھ کرتا ہے وہ موت کے بعد کی زندگی میں بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔ اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان چیزوں کی کوئی قیمت ہی نہیں جن کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا اور ان کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ساری زندگی لگادی تھی ۔ ہزار سال کے بعد سب مضحکہ خیز نظر آئیں گے ماوزی تنگ ( ۱۹۷۶ - ۱۸۹۳ ) تقریباً ۸۰ سال تک ۸۰ ملین آبادی کے ایک عظیم ملک کے مختار کل رہنے کے بعد بالآخر اس دنیا سے چلے گئے ۔ ۱۹۶۵ ء میں انھوں نے ایڈگر سنو ( Edgar Snow ) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا : A thousand years from now, all of us — even Marx, Engels and Lenin will look rather ridiculous " اے نابینا صاحب ، سنبھل کر قدم بڑھائیے ۔ آپ جس راستہ پر چل رہے ہیں ، اس میں آپ کے آگے ایک کنواں ہے ۔" یہ فقرہ گرامر کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ اخلاق اور تہذیب کے معیار پر بھی پورا اترتا ہے ۔ مگر یہ بظاہر صحیح فقرہ اس وقت بالکل بے معنی ہوگا جب کہ نابینا شخص کنویں کے عین کنارے سے پہنچ گیا ہو اور اندیشہ ہو کہ اس نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو وہ کنویں کے اندر جاگرے گا ۔ ایسے نازک موقع پر دوسری تمام باتیں حذف ہو جاتی ہیں اور کہنے والا چلا اٹھتا ہے : " کنواں ، کنواں " ایسا ہی کچھ معاملہ خدائی پیغام رسانی کا ہے۔ بظاہر زندگی کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگر ہر آدمی سب سے پہلے جس مسئلہ سے دوچار ہے ، وہ موت ہے۔ موت کسی شخص کی زندگی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جب کہ اس سے عمل کی مہلت چھین لی جاتی ہے اور وہ اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں دو ہی چیزیں ہیں۔ جنت یا جہنم۔ موت کے معاملہ کی نزاکت اس وقت بے حد بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کے لئے آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لئے ہونی چاہئے ، وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرہ سے آگاہ کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page