Urdu book · زلزلۂ قیامت

اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

یوں آتی ہے آفت ، اور آخرت کی آفت سب سے بڑی ہے جب کسی کو مال و اولاد کی نعمت ملتی ہے تو وہ دراصل خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس کا شکرانہ یہ ہے کہ آدمی ان کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ دوسروں کو بھی اس میں حق دار سمجھے اور کمزور طبقات کے لئے بھی اس میں حصہ لگائے۔ خدا کی نعمت پانے کے بعد "منانع للخیر" بن جانا خدا کو سخت ناپسند ہے۔ اس قسم کا فعل نہ صرف آخرت میں آدمی کے لئے بوجھ بنے گا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ دنیا میں بھی ملی ہوئی نعمت اس سے چھین نہ لی جائے۔ قرآن میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : " ہم نے اسی طرح ان کو آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انہوں نے قسم کھائی کہ اپنے باغ کا پھل صبح سویرے ضرور توڑیں گے۔ ان کو ایسا وثوق تھا کہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ "اگر خدا چاہے "۔ پھر رات کو جب کہ وہ ابھی سو رہے تھے، تمھارے رب کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر آ گئی اور اس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کوئی کٹی ہوئی فصل ہو۔" وہ صبح کو اٹھے اور ایک دوسرے کو پکارا، اگر تم کو پھل توڑنا ہے تو سوییرے اپنے کھیت پر چلو۔ پھر وہ لوگ چل پڑے ۔ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے ک آج تمھارے باغ میں کوئی محتاج نہ آنے پائے۔ وہ یہ سمجھ کر جا رہے تھے کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ مگر جب وہاں پہنچے اور باغ کی حالت دیکھی تو کہنے لگے "یقیناً ہم راستہ بھول گئے ہیں۔" پھر جب حقیقت معلوم ہوئی تو بولے "ہماری قسمت پھوٹ گئی " ان میں جو بہتر آدمی تھا، وہ بولا۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم خدا کی پاکی کیوں نہیں بولتے ۔ انھوں نے جواب دیا۔ واقعی پاک ہے ہمارا رب، بے شک ہم ہی قصور وار ہیں ۔ پھر ایک دوسرے پر ملامت کرنے لگا، انھوں نے کہا، افسوس ہمارے حال پر، بلاشبہ ہم سرکش ہو گئے تھے، بعید نہیں کہ ہمارا رب اس کے بدلے ہمیں اس سے بہتر باغ عطا کرے ۔ ہم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یوں آتی ہے آفت اور آخرت کی آفت تو سب سے بڑی ہے، کاش وہ جانتے۔ پھر گئی اور اس کا حال ایسا ہو گیا جیسے روندی ہوئی فصل۔ القلم ۳۷ - ۱۴ اسلام کی دعوت کیا ہے، آخرت کی چتاونی۔ یہ قبر کے اُس پار کے معاملات سے قبر کے اِس پار والوں کو باخبر کرنا ہے۔ اسلام کا داعی موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہوتا ہے، اس کو موت سے پہلے مر جانا پڑتا ہے۔ تاکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو دیکھے اور مُردوں کے احوال سے زِندوں کو مطلع کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page