Al-Risala · October 1976 · page 11

دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۱

موجووہ زمانہ میں روزہ کی حیثیت ایک قسم کی سالانہ رسم کی ہو گئی ہے۔ لوگوں کی اصل زندگی بدستور اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ روزہ کا زمانہ آتا ہے تو وہ بس ہجری کیلنڈر کے نویں ماہ میں داخل ہوتا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں داخل نہیں ہوتا۔ روزہ رکھ کر نہ لوگوں کے دل نرم پڑتے۔ نہ ان کے اندر عجز پیدا ہوتا ، نہ جائز اور ناجائز کے معاملہ میں ان کی قوتِ شامہ میں کوئی اضافہ ہوتا۔ ان کے نزدیک روزہ کے معنی صرف یہ ہیں کہ ایک خاص وقت سے خاص وقت تک کھانا پینا بند رکھا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس طرح بھوکے رہنے سے خدا خوش ہو جائے گا ____________ ایسی حالت میں ایک بے روزہ دار کیوں نہ سوچے کہ جب خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ رسم ہی ادا کرنی ہے تو جیسا روزہ کی رسم ویسا تلاوت کی رسم۔ ایک رسم نہ کی، دوسری رسم کر لی۔ خدا جیسے اس رسم سے خوش ہوتا ہے، اسی طرح دہ دوسری رسم سے بھی خوش ہو جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ روزہ محض ایک خارجی رسم نہیں۔ بلکہ وہ ایک باطنی عمل ہے۔ وہ مومن کی نفسیاتی حالت کا ایک جسمانی اظہار ہے۔ مومن کا مطلب ہے ایک ایسا شخص جو دنیا کی زندگی میں برائیوں سے بچ کر ر ہے جو کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کی پابندی کرے۔ روزہ اسی قسم کی پابند زندگی کی مشق ہے۔ روزہ میں کھانا پینا چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو روزمرہ زندگی میں ”یہ کرو اور وہ نہ کرو“ کے ایک لازمی کورس سے گزار کر اس کو سبق دیا جائے کہ اسی طرح تم کو پوری زندگی گزارنی ہے۔ اسی طرح ساری عمر کے لئے تم کو ”روزہ دار“ بن جانا ہے جب کہ تم خود اپنے ارادہ سے ایک طرح کی زندگی کو چھوڑ دو اور دوسری طرح کی زندگی کو بالقصد اختیار کر لو۔ روزہ کے مہینے کی پابند زندگی دراصل پورے سال اور ساری عمر کے لئے پابند زندگی کی ایک علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے سارے معاملات میں ”روزہ داری“ کے اسی طریقہ پر عمل کرے جو اس نے رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کے معاملہ میں کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حدیث کے الفاظ میں ”اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ “ اگر روزہ دار لوگ اپنے عمل سے حقیقی روزہ داری کا نمونہ پیش کریں تو غیر روزہ داروں کو ہمت ہی نہیں پڑے گی کہ وہ سوچیں کہ اپنے روزہ کی تلافی کے لئے کسی حافظ صاحب کی خدمات بالمعاوضہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد انھیں یہ عمل بالکل مضحکہ خیز دکھائی دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کی یہ بے قدری روزہ داروں نے کی ہے نہ کہ بے روزہ داروں نے۔ بے روزہ دار تو اسی کو روزہ سمجھیں گے جس کا نمونہ روزہ دار دکھارہے ہوں۔

میں ایک وزیر ہیں۔

ایشیا اور افریقہ کے اس علاقہ کی نمائندگی کرنے والی کوئی کانفرنس اگر پچاس برس پہلے ”کولمبو“ میں ہوتی تو ہم اس قسم کی خبر اخبار میں نہ پڑھے تھے۔ کیونکہ اس وقت ان ”۳۵“ اسلامی ملکوں کے نمائندے مسلمان سربراہ نہ ہوتے، بلکہ یورپی ملکوں کے گورنر اور وائسرائے ہوتے۔ موجودہ زمانہ نے اسلام کو زندہ کرنے کے بہت سے نئے امکانات کھول دیئے ہیں۔ مگر شاید ابھی تک لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔

زمانہ کا فرق کہاں سے کہاں پہنچا ہے ناوابستہ ملکوں کی کانفرنس جو کولمبو میں اگست ۱۹۷۶ کے دوسرے ہفتہ میں ہوئی اس کی خبروں میں سے ایک خبر یہ تھی کہ ۳۵ مسلم ملکوں کے سربراہ اور ان کے ساتھی جو اس کانفرنس میں شریک ہوئے انھوں نے ۱۳ اگست کو جمعہ کی نماز مقامی جامع مسجد میں ادا کی۔ اس کے انتظام کے لئے جو کمیٹی بنی، اس کے صدر الحاج بدیع الدین تھے جو سری لنکا کی حکومت

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page