Al-Risala · October 1976 · page 12

دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۲

اسلام کی عظمتیں اسلام کی چوکی دار ہیں دہلی کی جامع مسجد، شاہجہاں کی ایک حیرت انگیز یادگار ہے۔ یہ عظیم مسجد چھ سال (1650-1656) میں بن کر تیار ہوئی۔ چھ ہزار کاریگروں اور مزدوروں نے مسلسل اس میں کام کیا۔ اور اس کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ تین سو برس پہلے کی بات ہے جب کہ ایک مستری کی اجرت دو پیسے اور مزدور کی ایک پیسہ یومیہ ہوتی تھی۔ نیز مسجد کے قیمتی پتھر اور عمارتی سامان راجاؤں کی طرف سے مفت پیش کئے گئے تھے۔ اس مقدس عمارت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انتہائی سادہ ہونے کے باوجود انتہائی پرکشش ہے۔ تاج محل نے اپنے رومانی پہلو کی وجہ سے غیر معمولی شہرت پائی۔ مگر متنا سب شکوہ اور لطیف حسن جس طرح جامع مسجد کے سرخ و سفید پتھروں میں ڈھل گئے ہیں، اس کی کوئی دوسری مثال زمین پر مشکل سے ملے گی ۔ شاہجہاں کے زمانے میں جامع مسجد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا خصوصی اہتمام ہوتا تھا۔ جامع مسجد اور لال قلعہ اور مینا بازار کا مجموعہ اس زمانے میں دنیا کے چند انتہائی پرکشش مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ مگر ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد وہ گندگی کا علاقہ بنتا چلا گیا۔ مسجد کے چاروں طرف دکانوں کے لا تعداد گھروندے کھڑے ہو گئے اور اس کی عالیشان سیڑھیاں گداگروں کا اڈہ بن گئیں۔ مولانا محمد علی جوہر (۱۹۳۱ ۔ ۱۸۷۸) کو ایک بار ایک پیشہ ور مصور نے ایک روغنی تصویر فروخت کے لئے پیش کی۔ یہ جامع مسجد دہلی کی تصویر تھی۔ اس کی سیڑھیوں پر ایک بھکاری عورت کو اپنی دو بچیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے دکھایا گیا تھا جامع مسجد کی سیڑھیوں کے لئے یہ اتنا عام منظر تھا کہ محمد علی اس کی تردید نہ کر سکے البتہ اس کو با معنی بنانے کے لئے انھوں نے کہا: میں تمھاری تصویر کو خرید لوں گا، تم تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھ دو:

Her Fathers Built It اس کے پرکھوں نے اسے بنایا تھا۔

مسجد کے چاروں طرف جو تعمیری گھردندے کھڑے ہوئے تھے ان کو ہٹانے کا کام ۲۲ نومبر ۱۹۷۵ کو شروع ہوا تھا۔ ساڑھے سات سو د کانوں کے ہٹانے کے بعد اب ایسا نظر آتا ہے جیسے کوئی سرخ پہاڑ تھا جس کو ملبہ نے ڈھک لیا تھا اور اب اس کو اچانک کھول دیا گیا۔ بلند چٹان پر بنی ہوئی مسجد اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آگئی۔ " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کے چاروں طرف عظمت کے چوکیدار کھڑے ہو گئے ہیں۔ "میرے ایک دوست نے مسجد کے نئے منظر کو دیکھ کر کہا" ایک عظیم وجود خود ہی اپنا چوکیدار ہوتا ہے، اگر اس کو پستیوں سے ڈھانک نہ دیا جائے۔ مجھے خیال آیا کہ اسلام کی عظمت کو بھی اسی طرح اس کے پیروؤں نے اپنی پستیوں سے ڈھانک رکھا ہے۔ اگر ہم اپنی پستیوں کے نشانات کو اس کے گرد و پیش سے ہٹا دیں تو معلوم ہو گا کہ ـــــــــ اسلام کی عظمتیں خود ہی اسلام کی چوکیدار ہیں۔ اس کو اپنی عظمت کا منارہ کھڑا کرنے کے لئے کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں۔ ۱۸۵۷ کے ہنگامہ کے بعد دہلی کے مسلمان جب دوبارہ آیاً ہوئے تو ان کا رجحان زیادہ سے زیادہ جامع مسجد کے گرد جگہ حاصل کرنے کا تھا۔ یہاں وہ اپنے کو ایک قسم کی پناہ کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page