مسیح الدین احمد ایم اے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶۲
کو کے اس کے ساتھ اپنے کو وابستہ کر دیتا ہے۔ وہ اس کا بخوبی مطالعہ کر کے اس کو سمجھتا ہے، حقیقت پسندی کے تمام تقاضوں کے مطابق وہ ان کے درمیان کام کا نقشہ بناتا ہے۔ وہ ان کے اوپران کا خیر خواہ بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ ان کو راہ حق پر لانے کے لئے اپنی ساری عمر لگا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا ایک کام کسی خاص گروہ کا پابند ہو کر ہی انجام دیا جاسکتا ہے، نہ اس طرح کہ روزانہ نئے نئے گروہوں کے سامنے اپنا جلوہ دکھایا جائے۔ یہ ایک قسم کا حوالہ کی سپردگی کا معاملہ ہے نہ کہ تقریری مشاعروں کے دعوت نامے قبول کرنے کا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی دعوت کے لئے کسی مستقل مدعو کا انتخاب نہیں کیا ہے، وہ سرے سے داعی ہی نہیں ہے۔ دعوت تو پوری عمر کا ایک فیصلہ ہے۔ اُس کو اس تلون کے ساتھ کس طرح انجام دیا جاسکتا ہے کہ آدمی ہر دن کسی مقام پر تقریری کرتب دکھانے کے لئے پہنچ جائے۔
پھر بھی ان کے بستر کانٹوں کے بستر نہیں بنے مشہور پلے بیک سنگر مکیش چند ماتھر (۱۹۲۳-۱۹۰۶) امریکہ کے ایک سفر میں تھے کہ اچانک انتقال کر گئے۔ ان کے حالات جو اخباروں میں آئے ہیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ اردو زبان بہت اچھی جانتے تھے ۔ ابتداءً وہ ہندی سے ناواقف تھے۔ بعد کو اپنے پیشہ کی ضرورت کے تحت سخت محنت کر کے ہندی زبان سیکھی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی میں جو دس ہزار گانے ریکارڈ کرائے ہیں، ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن بھی ہے جس کو انھوں نے تین سال میں مکمل کیا تھا۔
۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو برادران وطن میں اس طرح کے بے شمار لوگ تھے جنھوں نے اپنے اسکولوں میں اردو پڑھی تھی۔ پنجابیوں کا سیلاب یہاں پہنچا تو اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ۔ آزادی کے انقلاب کے بعد تقریباً ًچوتھائی صدی تک اس ملک کی عام زبان اردو ہی تھی ۔ ہم نہایت آسانی کے ساتھ اردو کے ذریعے ان سب لوگوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچا سکتے تھے جس کے پہنچانے کی لازمی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی ہے۔ اب یہ لوگ اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ دوسری نسل لے رہی ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان لسانی بعد بڑھتا جا رہا ہے ، جو کام پہلے ہم اپنی مادری زبان میں کر سکتے تھے، اس کے لئے اب ہم کو دوسری زبانیں سیکھنی ہیں انسان کے اندر مہارت پیدا کرنا ہے۔ ایک کام جو پہلے آسان تھا، مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود لوگ راتوں کو اطمینان کی نیند سوتے ہیں، ان کے بستر ان کے لئے کانٹوں کے بستر نہیں بنے۔ شاید انھیں یاد نہیں رہا کہ ان کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب خدا پوچھے گا کہ تم نے ہمارا پیغام ہمارے بندوں تک کیوں نہ پہنچایا تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اور اگر ہم کو ” خدا کی گواہی چھپانے “ کا مجرم قرار دے دیا جائے جس کے مجرم یہودی قرار دیے گئے تھے تو ہمارے پاس اس سے بچنے کی کیا سبیل ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues