Al-Risala · December 1976 · page 41

مسیح الدین احمد ایم اے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۱

ان میں کبھی سمجھوتہ کی اجازت یں دیتا(تشبہ بالیہود عباس، مطبع محمدی، ۱۲۸۰ھ سے ممانعت اسی دوسرے مفہوم میں ہے) تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ غیر مسلم کا جوتا گول کنارے کا ہے تو ہم نوک دار کنارے کے جوتے کو اسلامی جوتا سمجھیں ۔ یا غیر مسلم گھروں میں پیتل کا برتن رائج ہو تو ہم تانبے کے برتن کو اسلامی آداب قرار دیں۔ الرسالہ (اکتوبر ۱۹۷۶ء) میں جو بات کہی گئی تھی، وہ بس اسی محدود مفہوم کے اعتبار سے ہے اور ہندوستان میں جنوب کے علاقہ کے مسلمانوں کی زندگی اس کی ایک مثال ہے ۔

۲ ، سورہ انعام کی آیت ۹ کے سلسلہ میں عرض ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور ان کے شاگردوں سے اس سلسلے میں تین تفسیریں منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں لبس بمعنی التباس ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالی فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا تب بھی ان کو انسان کی صورت میں بھیجتا اور مخاطبین کو پھر وہی اشکال ہوتا جو اشکال وہ اب کر رہے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے، دوسرا مفہوم تحریف کا لیا گیا ہے اور اہل کتاب کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے (تفسیر طبری)

تیسری رائے وہ ہے جس کو ہم نے الرسالہ میں نقل کیا ہے۔ تفسیر کی جو کتاب عبداللہ بن عباس کی طرف منسوب ہے، اس میں اسی رائے کو اولیت دی گئی ہے یہاں ہم اس کے الفاظ نقل کرتے ہیں :

(ولو جعلناه ) یعنی الرسول (ملكا لجعلناه رجلا) في صورة رجل آدمي حتى يقدروا ان ينظروا اليه (وللبسنا عليهم) على الملائكة (ما يلبسون) مثل ما يلبسون من الثياب . (تفسير عبد الله بن اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی کی صورت میں بھیجتے تاکہ وہ اس کو دیکھ سکیں اور ان فرشتوں کو وہی کپڑے پہناتے جو کپڑے یہ لوگ پہنتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مفسرین میں مولانا حمیدالدین فراہی نے آیت کا یہی مفہوم لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: قد جعل اللہ الانبیاء ھداۃ خلقه فالبسهم لباس البشرية۔۔ النبي يبعث في قوم ليصلحهم ويدعوهم الى الصراط المستقيم، فلا بد ان يكون مثلهم في الزى وَالشَّمَائِلِ، والا كان خلاف البعثة كما قال : ولو جعلناه ملكا لجعلناه رجلا وَلَلَبَسْنَا عليهم ما يلبسون القائد الی عیون العقائد، ۳۱۔ ۱۳۰۔

اللہ نے پیغمبروں کو اپنی خلق کا ہادی بنایا ہے۔ اس لئے انھیں بشری لباس پہنایا۔ پیغمبر کسی قوم میں اس لئے آتا ہے کہ اس کی اصلاح کرے اور اس کو صراط مستقیم کی طرف بلائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پوشاک اور عادات میں انھیں کی طرح ہو۔ ورنہ مقصد بعثت کے خلاف ہوگا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۲۔ "یکے بعد دیگرے اگر مختلف کلچر ل گروہوں کو دعوت پیش کرنی ہو تو کیا داعی کو بار بار اپنی وضع قطع میں تبدیلی کرنا پڑے گی"۔ یہ اعتراض بتاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے کام کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا ہے۔ دعوت کوئی شعبدہ بازوں کا تماشا نہیں ہے کہ آج یہاں دکھایا جائے اور کل وہاں نہ وہ ایک انتہائی سنجیدہ اور انتہائی طویل عمل کا نام ہے۔ داعی سیاح نہیں باغبان ہوتا ہے۔ وہ ایک مخاطب گروہ کا تعیین

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page