Al-Risala · October 1976 · page 17

Without being a Muslim, you can experience Namaz

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۷

شاہجہاں کے زمانے میں منگولوں سے مغل سلطنت کا مقابلہ پیش آیا۔ اورنگ زیب اس وقت شہزادہ تھا۔ اس کو مقابلے کے لئے بھیجا گیا۔ اس نے منگولوں کو سنکیا نگ تک دھکیل دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت اورنگ زیب اور جے سنگھ کی فوجیں سنکیا نگ کے صحرا میں منگولوں کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ اورنگ زیب گھوڑے سے اتر گیا اور میدانِ جنگ میں رومال بچھا کر نماز ادا کرنے لگا۔ منگولوں نے دیکھا کہ بادشاہ "ڈنڈ بیٹھک" کی طرح کوئی عمل کر رہا ہے۔ انھیں اس عمل پر سخت حیرت ہوئی۔ نماز کے آداب کو قریب سے دیکھنے کے لئے انھوں نے جنگ روک دی اور اورنگ زیب کا محاصرہ کر لیا۔ وہ سکون کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ اور منگول چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے حیرت کے ساتھ اس کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے تھے۔ جب بادشاہ نے سلام پھیرا تو منگولوں نے پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ اورنگ زیب نے جواب دیا: "میں اس خدا کی عبادت کر رہا تھا جو سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مہربان ہے۔ "

بادشاہ کا یہ جواب سن کر منگول کانپ اٹھے۔ ان کا حوصلہ پست ہو گیا۔ انھوں نے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیئے کہ ایسے بہادر انسان کو زیر کرنا ممکن نہیں۔ یہ ۱۶۴۷ء کا واقعہ ہے۔

محمد حسنین ہیکل (سابق ایڈیٹر الاہرام) نے لکھا ہے کہ جمال عبدالناصر جب پہلی بار روس گئے تو اس وقت کے روسی وزیر اعظم نیکیتا خروشیوف کے گفتگو کے دوران نماز سے بڑی دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ ۹ اپریل ۱۹۵۸ء کا واقعہ ہے: آخر خروشیوف کو مسلمانوں کے نماز پڑھنے کا منظر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جب خروشیوف کے گھر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد صدر ناصر ظہر کی نماز کے لئے ماسکو کی مسجد جانے لگے تو خروشیوف نے سوالوں کی بھر مار کر دی ۔ ناصر جتنی دیر وضو کرتے رہے، خروشیوف بذاتِ خود تولیہ لئے کھڑا رہا، اس نے بڑی عقیدت و احترام کا مظاہرہ کیا۔

علم الانسان پر جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ معبود کی پرستش کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اسے ختم نہیں کر سکتی۔ نماز اسی فطری جذبے کے اظہار کا فطری طریقہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے آداب اور طریقوں میں یہ فطری تقاضا اس طرح سمیٹ دیا گیا ہے کہ نماز میں اور انسان میں خاص مناسبت پیدا ہو گئی ہے۔ نماز انسانی فطرت کی عکاس بن گئی ہے۔ جون ۱۹۷۶ء میں ایک بار مجھے ایک غیر مسلم کے مکان پر نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔ ہم دو آدمی تھے۔ جب تک ہم لوگ نماز پڑھتے رہے، چھ افراد کا پورا خاندان دم بخود ہوکر ہم کو دیکھتا رہا۔ نماز سے فراغت کے بعد صاحب خانہ نے کہا: "آپ کی نماز کو دیکھ کر میرے ماتھے پر پسینہ آگیلہ می چاہتا تھا کہ میں بھی اس میں شریک ہو جاؤں" اس قسم کا تجربہ مجھے اپنی زندگی میں کئی بار پیش آیا ہے۔

ہماری یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچائیں۔ اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ اس کے آغاز کی عملی شکل کیا ہو۔ دین کو ان کے لئے بحث کا موضوع کس طرح بنایا جائے ۔ موجودہ حالات میں اس کی ایک قابلِ عمل شکل نماز نظر آتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نماز کی اٹھ بیٹھ " بعض لوگوں کو عجیب سی چیز معلوم ہوگی۔ جیسا کہ مکہ میں ابوطالب کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ ان کے صاحبزادے علی بن ابی طالب ابتدا نماز ہی کو دیکھ کر اسلام سے متاثر ہوئے تھے، اور پھر اسلام کے سب سے بڑے جہاں باز ثابت ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسری اقوام تک دین کو پہنچانے کے لئے نماز نہایت کامیاب ذریعہ بن سکتی ہے ۔ فطری کشش تو اس کے اندر ہمیشہ سے تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے تجرباتی اور مشاہداتی مزاج نے اس کے اندر ایک "سائنسی اہمیت پیدا کر دی ہے۔ آج کا انسان چاہتا ہے کہ کسی بات کو ماننے سے پہلے اس کو عملی شکل میں جانے، وہ اس کا ذاتی تجربہ کر سکے۔ نماز اس ضرورت کو کمال درجہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page