نماز سے آغاز
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۶
نماز سے آغاز
دو برس پہلے کی بات ہے، میں اپنی کتاب ’’الاسلام‘‘ کی ترتیب کے دوران ایک سوال سے دوچار تھا۔ موجودہ زمانہ تجربوں اور مشاہدوں کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان اگر مجھ سے پوچھے کہ کیا اسلام کی صداقت کو ہم تجرباتی طور پر جان سکتے ہیں، تو میرا جواب کیا ہوگا؟ اسی اثنا میں ۱۳ ا ور ۱۴ جولائی ۱۹۷۹ء کی درمیانی شب کو میں نے دہلی میں خواب دیکھا کہ میں کچھ غیر مسلموں کے ساتھ ہوں اور ان کو اسلام کی باتیں بتا رہا ہوں۔ یہ غالباً یورپ کے کچھ لوگ تھے اور مجھ سے ٹھیک یہی سوال کر رہے تھے۔ عجیب بات ہے کہ وہ سوال جس کو میں حالت بیداری میں حل نہ کر سکا تھا، اللہ تعالیٰ نے حالت خواب میں اس کو کھول دیا۔ میں نے دیکھا کہ میں اس سوال کے جواب میں ان سے پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں: ’’ہاں اسلام کی تجرباتی آزمائش ممکن ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ آپ نماز کا تجربہ کریں! ‘‘ مخاطب کی رعایت سے خواب کی یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔ میری نیند کھلی تو اپنا ایک جملہ مجھے لفظ بہ لفظ یاد تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا:
Without being a Muslim, you can experience Namaz
(مسلمان نہ ہوتے ہوئے آپ نماز کا تجربہ کر سکتے ہیں) جہاں تک یاد آتا ہے، اس کے بعد ان لوگوں نے وضو کیا اور میرے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کا یہ تجربہ ان کے لئے اتنا مؤثر ہوا کہ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ صرف نماز کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہند جگر خوار کے اسلام سے متاثر ہونے کا ابتدائی سبب نمازہی تھی ۔ مسلمان جب مکہ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے تو انھوں نے وہاں ظلم اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ مسجد میں جاکر اللہ کے سامنے اپنے عجز اور بندگی کا اقرار کیا۔ ابن مندہ نے روایت کیا ہے کہ ہند نے اپنے شوہر ابو سفیان سے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں۔ ابو سفیان نے کہا، تم تو ابھی کل تک اسلام کی سخت مخالف تھیں۔ انھوں نے جواب دیا ہاں، مگر رات جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرے ذہن کو بالکل بدل دیا ہے : واللہ ما رأیت الله تعالیٰ عبد حق عبادتہ فی خدا کی قسم آج کی رات سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس هذا المسجد قبل الليلة ، والله ان باتوا الا مسجد میں خدا کی عبادت اس طرح کی گئی ہو جیسا کہ اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ خدا کی قسم یہ لوگ ساری رات نماز پڑھتے رہے۔ انھوں نے قیام اور رکوع اور سجود میں رات گزار دی۔
افریقہ کی تاریخ کا ایک مبصر لکھتا ہے:
” وسط افریقہ میں اسلام کی اشاعت بہت بڑی حد تک سیاحوں اور عرب تاجروں کے ذریعہ ہوئی۔ ان کا سب بڑا معجزہ جس سے افریقہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی، نماز تھا۔ جہاں یہ لوگ ایک امام کے پیچھے ایک صف میں کھڑے ہوئے اور ان کے چہروں سے خدا کا خوف ظاہر ہوادیکھنے والے گھل کر رہ گئے۔ لوگ ایک طرف اپنی ذلیل بت پرستی پر نادم ہوئے، دوسری طرف اسلامی عبادت نے ان کو اپنی طرف کھینچا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف نماز نے وسط افریقہ کی اکثر آبادی کو اسلام میں داخل کر دیا۔ ‘‘ Winwood Reade, Martyrdom of Man, P.32
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues