صلاحیت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۹
امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لئے یہ "ذلت" ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔ آپ کو مارا المسلمین (مسلمانوں کے لئے ننگ) کا خطاب دیا، کہا کہ آپ کا فر ہو گئے ہیں۔ آپ کے کپڑے نوچے، حتیٰ کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ بلکہ فرمایا : " خلافت اگر معاویہ بن ابو سفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا۔ اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ " ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا اور اس طرح جو اسلامی تاریخ میں ، صفین و جمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خون ریزی کا عنوان بنتا ، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا ۔ وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی ، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے ہی کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں ۔ رعایت نہیں ہمارے ملک کی مسلم قیادت نے مسلمانوں کے مسئلہ کے حل کا جو آخری راز دریافت کیا ہے، وہ یہ کہ "مسلمانوں کو وہ رعایتیں دی جائیں جو شیڈیولڈ کاسٹ کے لئے مخصوص کی گئی ہیں" اولاً تو یہ ممکن نہیں۔ اور بالفرض یہ نا ممکن اگر ممکن بھی ہو جائے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی رعایت زندگی کے وسیع تر حقائق کا بدل نہیں بن سکتی۔ یہ دنیا استعداد کی بنیاد پر جگہ حاصل کرنے کی دنیا ہے۔ یہاں محض رعایت سے کوئی شخص بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
ونے کرپال اور گووندسلیکر نے شیڈیولڈ کاسٹ اور قبائل کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان رعایتوں نے ان طبقات کی حالت میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ اب بھی اگر کوئی ہر کجن کامیاب ہے تو وہ وہی ہے جس نے اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پیدا کی تھی۔ مثلاً ڈاکٹر امبید کر، شری جگ جیون رام۔ شری کے، آرنارائن وغیرہ۔
صلاحیت
لکشمن ہلد ر ایک مزدور تھے ، پھر انہوں نے کچھ تعلیم حاصل کی اور ٹائپ کرنا سیکھا۔ اس کے بعد ان کو مرکزی حکومت میں رز رو سیٹ کے تحت کلرک کی ایک جگہ مل گئی۔ مگر ان کی انگریزی کمزور تھی۔ ان کے افسر نے ان کی کتاب میں لکھ دیا: His English is weak اس قسم کی رپورٹ تین سال تک درج ہوتی رہی۔ قاعدہ یہ ہے کہ اگر تین سال تک مسلسل کسی کے خلاف "بیڈ رپورٹ " ہوتی رہے تو اس کی ملازمت ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ لکشمن ہلد ر کو ختم ملازمت کا نوٹس مل گیا۔ تاہم انھوں نے دوڑ دھوپ کی ۔ ایک ڈائریکٹر کو ان پر رحم آگیا اور اس نے ان کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی ۔ اب لکشمن ہلد ر نے محنت شروع کی اور مدت ختم ہونے تک انگریزی بولنے کی اچھی صلاحیت پیدا کر لی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ملازمت میں لے لئے گئے ۔ (والسٹر ٹیڈویکلی ۲۳ اپریل لکشمن ہلد ر کو بالآخر جس چیز نے جگہ دی وہ ان کی صلاحیت تھی نہ کہ رعایت ۔ یہی بات ہر ایک کے لئے صحیح ہے، خواہ وہ ہرمن ہو یا غیر ہرمن
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues