The mountain, at last, is coming to Mohammad
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۸
کبھی پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام ہوتا ہے مگر اس کو وہی لوگ جانتے ہیں جو بڑے دل والے ہوں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (11ھ) کے بعد ۲۰ سال تک فتوحات اسلام کا زبردست سلسلہ جاری رہا۔ ہر مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقے کے فتح کی خبر آتی تھی۔ مگر تیسرے خلیفہ کی شہادت (۳۵ ھ) کے ساٹھ جو باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں، انھوں نے تقریباً سا سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ وہ شخص جس نے اس بند دروازہ کو دوبارہ کھولا، وہ حضرت امام حسن تھے جنہیں میں آپ کی خلافت سے دست برداری بظاہر میدان عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا۔ مگر اس واپسی نے اسلامی تاریخ میں اقدام وعمل کے نئے امکانات کھول دیئے۔
حسن بن علی بن ابی طالب شعبان ۳ھ میں پیدا ہوئے۔ ربیع الاول ۵۰ھ میں وفات پائی۔ آپ کے والد حضرت علؓی کی شہادت ، ۴ رمضان ۵۰ھ کو کوفہ میں ہوئی تو آپ کی عمر ۳۷ سال تھی۔ اس وقت صرف عراق اور ایران حضرت علؓی کے زیر خلافت رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ میں امیر معاویہ کی حکومت قائم تھی۔ حضرت علؓی کے زیر خلافت علاقہ میں بھی بہت سے لوگ درپردہ آپ کے مخالف تھے۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد لوگوں نے امام حسن کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی جو آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے تھے۔
حضرت حسن نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خلافت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ مگر ان کے اندر چونکہ اقتدار کی ہوس نہ تھی، انھوں نے بہت جلد اس حقیقت کو محسوس کر لیا کہ موجودہ حالات میں ان کا خلافت پر اصرار کرنا صرف ملت کے انتشار میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا۔ انھوں نے ایک حقیقت پسند انسان کی طرح ایک بار اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے کہا تھا: ”میں جانتا ہوں کہ نبوت و خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں، اسی نزاکت کی وجہ سے آپ نے بیعت کے وقت لوگوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ ”میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے “۔
حضرت علی کے بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا۔ دوسری طرف حضرت امیر معاویہ کے لئے حضرت علی کا اس دنیا سے جانا گویا راستہ صاف ہونے کے ہم معنی تھا۔ انھوں نے حضرت علی کی شہادت کی خبر ملتے ہی اپنے لئے ”امیر المومنین “ کا لقب اختیار کر لیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ بقیہ اسلامی علاقوں (عراق و ایران) کو بھی اپنے ماتحت کرکے اپنی حکومت کو مکمل کر لیں۔ امیر معاویہ تجدید بیعت سے فارغ ہونے کے بعد ساتھ ہزار کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کوفہ میں داخلہ سے پہلے انھوں نے امام حسن کو پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر یہ ہے کہ آپ مجھ سے صلح کر لیں اور مجھ کو خلیفہ وقت تسلیم کرلیں۔ امام حسن کے پاس بھی اس وقت ساٹھ ہزار کا لشکر تھا جو لڑنے مرنے پر تیار تھا۔ مگر امام حسن نے مسلمانوں کو باہمی خوں ریزی سے بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ اپنے حق خلافت سے ازخود دست بردار ہو گئے اور صرف چھ ماہ خلیفہ رہ کر امیر معاویہ کے ہاتھ کوفہ کی مسجد میں بیعت کر لی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues