الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳
الرسالة کا مقصد تعمیری اور اصلاحی ذہن پیدا کرنا ہے اردو زبان دستور ہند کی لسانی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ مگر ملک میں اخبارات و رسائل کی تعداد کے اعتبار سے اس کا نمبر تیسرا ہے۔ ساسی حالت میں ایک نیا اردو رسالہ نکالنے کا ارادہ ہم نے کیوں کیا۔ جواب یہ ہے کہ تعداد کی کثرت کے باوجود اردو صحافت میں بعض خانے خالی تھے۔ اور الرسالہ کے ذریعہ ہم انھیں خانوں کو پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد مختصر لفظوں میں "تعارف اسلام" ہے۔
مسلمان، ختم نبوت کے بعد نبوت کے قائم مقام ہیں۔ انھیں بعد کے زمانوں میں خدائی پیغام رسانی کے ٹھیک اسی کام کو انجام دینا ہے جو پچھلے زمانوں میں انبیاء کرتے رہے ہیں۔ پیغام رسانی کا یہ اہتمام اللہ نے اس لئے کیا ہے کہ قیامت میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو ایک ایسے معاملہ میں پکڑ اجارہا ہے جس کی بابت ہم کو بتایا نہیں گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں کو خدا کی مرضی سے آگاہ نہ کریں تو دوسروں سے پہلے خود ہم کو پکڑا جائے گا کہ اپنے فرض منصبی کو ادا کیوں نہ کیا۔ یہ اتنی سنگین بات ہے کہ اس ذمہ داری سے غفلت برتنے کے بعد کوئی بھی ذاتی عمل مسلمانوں کو خدا کے یہاں بچا نہیں سکتا۔ مگر مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ دوسری قوموں کے سامنے اسلام کی پیغام رسانی کا کام نہیں کیا، بلکہ اپنے عمل سے اسلام کا الٹا تعارف کرایا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سو برس کے اندر جو تحریکیں ہمارے درمیان اٹھیں ان کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت الہیہ، علیحدہ قومیت مناظرہ بازی، سیاسی محاذ آرائی اور حقوق طلبی لوگوں کی نظر میں اسلام بن گئے ہیں۔ حالاں کہ قرآن میں جو اسلام ہے اس کا ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کا اسلام تو بس یہ ہے کہ: انسان اپنے مالک سے ڈرے، اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ مرنے کے کے بعد اس کو خدا کے یہاں حساب دینا ہے۔ ــــــــ اسلام اس لئے آیا تھا کہ انسانوں کو آخرت کے مسائل کی طرف متوجہ کرے، ہم نے اس کو دنیوی مسائل کی طرف متوجہ کرنے کا عنوان بنا دیا۔ مسلمانوں کو داعی کی حیثیت سے اٹھانا، آج ملت اسلامیہ کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس ذمہ داری کو چھوڑنے کی وجہ سے وہ خدا کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں اور دوبارہ اسی ذمہ داری کو پورا کر کے وہ خدا کی نصرت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ اس کام کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ الرسالہ کم از کم پانچ زبانوں میں جاری ہو: اردو، ہندی، عربی، فارسی، انگریزی۔ یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ ہم کو ایسے افراد حاصل ہیں جو ان زبانوں میں اعلیٰ معیار کا ماہنامہ مرتب کر سکتے ہیں۔ مگر ان کو فارغ کرنا اور چھپائی اور تقسیم کے تمام مراحل کے اخراجات، ان سب کے لئے کثیر مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ تاہم جس خدا نے قحط الرجال کے اس دور میں ہم کو انسانی وسائل دیئے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ خدا فراوانی دولت کے اس دور میں مالی وسائل بھی ضرور مہیا فرمائے گا۔ انشاء اللہ جلد وہ وقت آئے گا جب کہ الرسالہ کے ایڈیشن متعدد دوسری زبانوں میں بھی نکلیں اور تمام اقوام تک اس کے خیالات کی اشاعت ممکن ہو سکے۔
الرسالہ کے ساتھ ایک مکتبہ بھی ہوگا جس میں خصوصیت کے ساتھ اسلام کے تعارف پر کتابیں شائع کی جائیں گی۔ ہماری کوشش ہوگی کہ مثبت انداز میں بغیر کسی تعبیری یا کلامی اضافہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues