الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴
کے قرآن ، حدیث ، سیرت ، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام پر کتابیں تیار کی جائیں اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے اسی کے ساتھ ایسا لٹریچر تیار کرنا بھی ہمارے پروگرام میں شامل ہوگا جو وقت کی زبان اور عصر حاضر کی اصطلاحوں میں اسلام کی تشریح کرے ۔ اس کے علاوہ ایسی کتابوں کی بھی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے اندر تعمیری ذہن اور حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کریں اور ان کو بتائیں کہ قوموں کی زندگی کا راز دوسروں سے لا حاصل مقابلہ آرائی میں نہیں ، بلکہ خود اپنی تعمیر میں ہے ۔ اسی طرح کچھ ایسی کتابیں بھی درکار ہیں جو علمی انداز میں تیار کی جائیں اور اسلام کے داعیوں کے لئے معاون کا کام دیں ۔ مثلاً تاریخ انبیاء ، مذاہب کی تاریخ ، قاموس الاسلام ، فکر جدید کا تعارف وغیرہ ۔
یہ کام ایک انتہائی اہم کام ہے اور پوری طرح انجام دینے کے لئے بہت زیادہ وسائل و ذرائع چاہتا ہے ۔ بلکہ ضرورت تو یہ ہے کہ دہلی یا اور کسی مناسب مقام پر ایک اعلیٰ معیار کا اسلامی مرکز قائم کیا جائے جو ان تمام ضرورتوں کی تکمیل کے لئے سرگرم ہو۔ اس میں تقابلی مذہب کے مطالعہ کا اور خلیج فارس کے ملکوں کے سیاحوں کو ہندوستان کی طرف مائل کرنے کے لئے حکومت ہند بہت سے نئے اقدامات کررہی ہے۔ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے ایک فلم تیار کیا ہے جس میں انڈین کلچر کے ذیل میں خصوصی طور پر اسلام کو دکھایا گیا ہے ( ہندوستان ٹائمس ۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۷۵ )
نومبر ۱۹۷۵ میں دہلی میں قرأت قرآن کے مقابلے کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر ریلوے مسٹر شفیع قریشی نے کہا کہ یہاں ایک ” قرآن گھر “ قائم ہونا چاہئے جس کا خاص مقصد یہ ہو کہ قرآن کے ترجمے مختلف زبانوں میں تیار کر کے سارے ملک میں پھیلائے جائیں۔
جون ۱۹۷۶ء کے پہلے ہفتہ میں بمبئی میں بیت الحجاج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ یہ ۲۰ منزلہ عمارت ۲۵ کروڑ روپے کی لاگت سے بنائی جائے گی۔ حکومت مہاراشٹر نے اس کے لئے زمین اور ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ صوبائی کانگریس نے ۵۱ ہزار اور مسٹر کے این مودی نے ۵۰ ہزار روپے دیئے عطیات کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ نائب وزیر خارجہ مسٹر بپن پال داس نے بتایا کہ وزیر اعظم ادارہ ہو۔ عربی اور دوسری زبانوں کی تعلیم کا اعلیٰ مدرسہ ہو۔ مختلف زبانوں کا معیاری دارالاشاعت ہو۔ غیر مسلموں سے ربط قائم کرنے کے لئے ہر قسم کے عمدہ انتظامات ہوں، اسلام اور دیگر مذاہب و فلسفہ پر وسیع کتب خانہ ہو۔ لکچر ہال اور ریڈنگ روم ہو، تحقیق و تصنیف کے ادارے ہوں۔ پھر اس میں جدید ترین طرز کا ایک اسلامی میوزیم ہو جس میں اسلام کی تاریخی چیزوں کو تصویروں کے ذریعے پروجیکٹ کیا جائے ۔ یہ میوزیم اس بات کا ایک خاموش اعلان ہوگا کہ اسلام مکمل طور پر ایک تاریخی مذہب ہے نہ کہ محض دور قدیم کی ایک داستان جو غیر معتبر کہانیوں کے ذریعے چلی آرہی ہے ۔ ستمبر ۱۹۷۵ء میں سری نگر میں ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہوئی جس کے چیرمین وزیر اعلیٰ کشمیر شیخ محمد عبد اللہ تھے۔ اس موقع اندرا گاندھی اس منصوبے میں خصوصی دل چسپی لے رہی ہیں۔ اس تقریب کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند فخرالدین علی احمد نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو پھیلایا جائے اور اس کے بارے میں غلط فہمیاں دور کی جائیں ۔ انھوں نے کہا " دنیا آج روحانی بحران سے گزر رہی ہے اور آج سب سے زیادہ اس کو خدائی روشنی کی ضرورت ہے"۔
اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ بہترین موقع ہے جبکہ اسلامی مرکز کی اسکیم کو وجود میں لایا جائے ۔ اس قسم کا مرکز اگر معیاری انداز سے قائم ہو جائے تو وہ اس ملک میں اسلام کا ایک تاج محل ہوگا جو شاہ جہاں کے تاج محل سے بھی زیادہ مسلم ممالک کے سیاحوں پر مرکزی وزیر سیاحت مسٹر راج بہادر نے بتایا کہ مغربی ایشیا کو ہندوستان کی طرف کھینچنے کا سبب بنے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues