Al-Risala · October 1976 · page 31

مطالعہ کتب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۱

کرنے کے فلسفیانہ فرائض کی وضع کا انتقاد حقہ میں سکا میروجہ کرنا مقابلہ میں روحیات کی اور ہادی اور معرفت پر آدم کا زمانے کے مسیحیوں نے اس کو وضع کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدت وجود کے مقابلہ میں وحدت الٰہ اور وحدت بنی آدم کا عقیدہ انسانی اخوت مساوات کی بالکل کافی بنیاد ہے اور اسلام کی تاریخ، کم از کم تجرباتی طور پر، اس کی حقانیت کا بھی ایک واضح ثبوت پیش کر رہی ہے ۔

اخوت اور مساوات کی نظریاتی بنیاد ہمیں اس وقت مل جاتی ہے جب ہم دریافت کرتے ہیں کہ سارے انسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ اس کے بعد یہ ضروری نہیں رہتا کہ اس سلسلہ نسب کو خدا تک بھی پہنچایا جائے اصل مسئلہ مخلوق اور مخلوق کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا ہے نہ کہ مخلوق اور خدا کے درمیان۔ اس لئے مخلوق کی نسلی یکسانیت مانتے ہی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس رشتہ کو خدا تک وسیع کرنے کی کوشش، مقصد کے اعتبار سے غیر ضروری ہے اور عملی اعتبار سے غیر ثابت شدہ اور نا قابل فہم ۔

دوسری بات یہ کہ وحدت وجود کے نظریہ کو ماننے کے بعد صرف خدا اور انسان ہی ایک کل کا جزو نہیں بنتے بلکہ انسان اور بھیڑیا بھی ایک سطح پر آجاتے ہیں خواہ وہ انسانی بھیڑیا ہو یا حیوانی بھیڑیا۔ گو یا ٹکراؤ کے جس مسئلہ کو ختم کرنا مقصود ہے وہ دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آتا ہے ۔ سمیہ ارسد لِئے بیداری اور فکری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے Letters of Swami Vivikanand Advaita Ashram 5, Dehi Entally Road Calcutta 14 (1970, pp. 463)

فریدہ خانم ایم،اے اسلام نے اس کے اندر نئی طاقت پیدا کردی ۔ خنساء (م ۴۲ ھ ) اسلامی دور کی شاعرہ ہے۔

اس خاتون کا اصل نام تُماضر بنت عمرو بن الشريد سلمیہ ہے خنسار اس کا لقب تھا۔ بعد کو وہ اسی سے مشہور ہو گئی۔ وہ ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ مضر کے قبیلہ بنو سلیم کا سردار تھا۔ اس کے دو بھائی جاہلی جنگ میں مارے گئے۔ اس کا اسے بہت صدمہ ہوا۔ اپنے بھائیوں کے قتل سے پہلے وہ دو یا تین اشعار سے زیادہ نہ کہتی تھی۔ مگر جب وہ مارے گئے تو اس کی آنکھوں سے آنسو اور دل سے اشعار امنڈ نے لگے۔ اس نے دونوں بھائیوں خصوصاً صخر کے لئے انتہائی درد ناک مرثیے لکھے۔ وہ برابر مرثیہ کہتی رہی اور روتی رہی ، یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔

فتح مکہ کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اسلام قبول کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو اس نے اپنے کچھ اشعار سنائے تو آپ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا " اور سناؤ خناس" چنانچہ اس نے مزید اشعار آپ کو سنائے۔ مگر جوانی کی عمر میں جو عورت اپنے بھائی کی موت کو برداشت نہ کر سکی تھی، اسلام نے اس کے اندر وہ طاقت پیدا کی کہ بڑھاپے کی عمر میں اس نے خود اپنے لڑکوں کو خدا کی راہ میں نثار کر دیا۔ اس کے چار جوان بیٹے تھے۔ چاروں کو اس نے جنگ قادسیہ میں جانے کے لئے آمادہ کیا۔ چنانچہ چاروں گئے اور چاروں لڑ کر شہید ہو گئے۔ جب اس کو خبر ملی کہ اس کے چاروں بیٹے ختم ہو گئے تو اس نے رونے یا مرثیہ کہنے کے بجائے نہایت صبر و سکون کے ساتھ اس خبر کو سنا اور پھر بولی: "خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت سے عزت بخشی۔ میں امید کرتی ہوں کہ وہ مجھے ان سے ملا دے گا۔ "

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page