Al-Risala · October 1976 · page 5

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵

یہ جد و جہد حیات کا ایک سبق ہے رمضان کا مہینہ آدمی کے لئے اپنے نفس اور اپنی خواہشات سے لڑنے کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جبکہ مومن شیطانی طاقتوں کو زیر کر کے اس کے اوپر قابو پاتا ہے اور دوبارہ خدا کی بندگی کا عزم لے کر نئے سال میں داخل ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی تاریخی معرکے اسی مبارک مہینہ میں پیش آئے ہیں۔ مثال کے طور پر:

غزوہ بدر (۶۲۳) جس نے پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح دی۔ فتح مکہ (۶۳۰) جس نے پوری عرب دنیا پر اسلام کو غالب کر دیا۔ غزوہ تبوک (۶۳۳) جس نے رومیوں کے اوپر اہل اسلام کی دھاک قائم کردی۔ (رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوا) معرکہ عین جالوت (۱۲۶۰) جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر بغداد کی مسلم سلطنت کو دوبارہ زندہ کیا۔ مصر - اسرائیل جنگ (۱۹۷۳) جس نے نہر سویز اور صحرائے سینا کے تیل کے چشموں کو دوبارہ مصر کے قبضہ میں دے دیا۔

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جد و جہد حیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روزہ کی بھوک پیاس آدمی کو کمزور نہیں کرتی۔ بلکہ وہ اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں وہ زیادہ جاں فشانی کے ساتھ حصہ لے سکے۔

ایک واقعہ

ابو بکر بن عباس خوارزمی (۳۸۳ھ) ذہانت و حافظہ میں ضرب المثل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ارجان میں صاحب بن عباد وزیر سے ملنے گئے۔ دروازہ پر پہنچے تو دربان اندر گیا اور صاحب سے جاکر کہا کہ دروازہ پر ایک ادیب آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ وزیر نے کہا ان سے کہو۔ یہ میں نے طے کر لیا ہے کہ میرے پاس کوئی ادیب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اسے عرب کے ۲۰ ہزار اشعار زبانی یاد نہ ہوں" خوارزمی نے یہ بات سنی تو دربان سے کہا کہ جاؤ ان سے دریافت کرو کہ ۲۰ ہزار اشعار مردوں کے یا عورتوں کے۔

یہ سنکر وزیر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا۔ " یہ ابو بکر خوارزمی معلوم ہوتے ہیں" اور فوراً اندر بلا لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page