دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۷
دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں ، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو اپنے گھیرے میں لے گا“ (ھود - ۸۴) یہ پیغمبرانہ آو از حضرت شعیب علیہ السلام کی تھی جو انھوں نے ساڑھے تین ہزار برس پہلے مدین والوں کو سنائی۔
مدین، قدیم عرب میں بحر احمر کے کنارے ایک شہر تھا۔ حضرت ابراہیم (۱۹۸۵- ۲۱۶۰ ق م) کی بیوی قطورہ کے بطن سے آپ کے ایک صاحبزادے مدین نامی پیدا ہوئے۔ انھیں کی نسل ابتدا یہاں آباد ہوئی اور ان کے نام پر شہر کا نام مدین رکھا گیا۔ انھیں مدین کی نسل سے ، حضرت ابراہیم کے تقریباً ۵۰ برس بعد، حضرت شعیب پیدا ہوئے۔ اس وقت تک مدین کی قوم میں کافی بگاڑ آگیا تھا۔ اللہ نے حضرت شعیب کو پیغمبری عطا کی اور ان کو مامور کیا کہ حضرت ابراہیم کی اس بگڑی ہوئی اولاد کو حق کا پیغام سنائیں ۔ قوم مدین کی کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے ان کے بارے میں کہا گیا کہ تم اپنے آج کے اچھے حال پر خوش مت ہو، کیونکہ آئندہ تمھارے لئے شدید عذاب کا اندیشہ ہے۔ وہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ وہ ناپ تول پور ا نہیں کرتے تھے اور لوگوں کو چیزیں دینے میں کمی کرتے تھے (اعراف ۔ ۸۵) اس اخلاقی بیماری کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے ”خرابی ہے گھٹانے والوں کے لئے، جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیں تو پورا پورا لیں اور جب ان کو ناپ یا تول کردیں تو کم کر دیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ، اس دن جب کہ سارے لوگ مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے “ (المطفيف)
"اپنے لئے بھر پور لینا اور دوسروں کو دینے میں کمی کرنا ایک وہ ہے جو دکان داروں کے یہاں ملتا ہے۔ جو دکان دار ایسا کرتا ہے کہ اپنے لئے ناپنا اور تولنا ہو تو زیادہ لینے کی کوشش کرے اور دوسروں کو دینا ہو تو چاہے کہ کسی نہ کسی طرح اس میں گھٹا دوں، خواہ ناپنے اور تولنے میں کمی کر کے یا ملاوٹ اور خلاف نمونہ چیز دے کر، وہ خدا کے یہاں ملعون ہے اور اس کی ساری کمائی حرام کی کمائی ہے۔ اپنے اس دھوکے بازی کے کاروبار سے وہ خواہ کتنا ہی نفع حاصل کر رہا ہو، آخرت کے دن وہ سخت ترین گھاٹے میں ہوگا ۔
تاہم اس ذہنیت کا تعلق صرف دکان داری سے نہیں ہے بلکہ انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جو اہل علم اپنے معاصر فضلاء کی تعظیم و توقیر کا حق ادا نہیں کرتے وہ بھی اس آیت کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ اسی پر ان تمام دوسری صورتوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے جب کہ آدمی اپنے لئے تو چاہتا ہے کہ اپنے واقعی حق سے بھی زیادہ وصول کرلے اور دوسرے کو اس کے واجبی حق کے بقدر دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues