دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۸
ایسی شاندار چیزیں خدا کے یہاں کہاں !
نئی دہلی کے بین الاقوامی صنعتی میلے (۱۹۶۱) میں امریکہ کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کی نمائش کی گئی تھی۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ زمین پر بھی دوڑتی تھی اور ساٹھ میل کی رفتار سے ہوا میں بلند ہو کر بھی اڑتی تھی۔ ایک نوجوان سادھو جب نمائش کے مختلف عجوبوں کو دیکھتا ہوا امریکی پویلین کے پاس پہنچا اور اس جادوئی گاڑی کو اُڑتے اور دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس کے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا ہو گیا کہ میں تیاگ اور قربانی کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیات کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈوں، سادھو نے کہا۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان ۲۰ منٹ تک اس امریکی موٹر کو دیکھتا رہا جس کو نمائش کے ذمہ داروں نے مستقبل کی کار کا نام دیا تھا۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا: "اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھوں۔ (ہندوستان ٹائمس ۔ ۲۰ نومبر ۱۹۶۱) اسی قسم کا ایک اور واقعہ پڑھئے۔
جولائی ۔ اگست ۱۹۷۵ء میں بہار میں ہولناک سیلاب آیا تھا۔ اس میں بہت سے خاندان بے گھر ہو کر مجبور ہوئے کہ کسی دوسری جگہ اپنے لئے پناہ گاہ تلاش کریں۔ انھیں مصیبت زدگان میں ایک غریب مسلم خاندان دہلی آیا۔ گھر کا مرد طوفان میں ختم ہو چکا تھا۔ ۱۲ سال کے یتیم لڑکے شریف اور اس کی دہلی اور بیمار ماں کو جو امید دہلی لائی، وہ یہ تھی کہ اس کا داماد یہاں رکشا چلا کر اپنی روزی کما رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ رکشا کھینچنے والا ایک شخص دو خاندانوں کی پرورش کس طرح کر سکتا تھا۔ شریف کو ملازمت تلاش کرنی پڑی۔ اولاً کچھ دنوں ایک معمولی ہوٹل میں پلیٹیں دھوتارہا۔ اس کے بعد ایک خوش حال مسلم خاندان میں اس کو گھریلو کاموں کے لئے ۵۰ رو پے ماہوار پر جگہ مل گئی۔
شریف ایک انتہائی غریب خاندان کا لڑکا تھا۔ اس دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد اسے جو بستر ملا وہ زمین پر بچھا ہوا ایک ٹاٹ تھا۔ اب تک کی زندگی اس نے اس طرح گزاری کہ کبھی اس کے پاؤں میں جوتا پڑا اور نہ جسم پر پورا لباس پہننے کو ملا۔ سردیوں کی رات کے معنی اس کے نزدیک صرف یہ تھے کہ لکڑی کے ٹکڑے اور پتیاں جمع کر کے کچھ دیر آگ اور دھواں میں گزارے جائیں اور اس کے بعد ایک پھٹا ہوا ٹاٹ بچھا کر دوسرا پھٹا ہوا ٹاٹ اوپر سے لپیٹ لیا جائے۔ دسمبر کی ایک صبح کو جب کہ شریف مالکہ مکان کا بستر سمیٹ رہا تھا۔ اچانک ایک خیال اس کے دماغ میں رینگا۔ مسہری کے اوپر بچھا ہوا سونا نرم گدا اس کے اوپر خوبصورت چادر اور مخملی کپڑے میں بنا ہوا شان دار لحاف، ان چیزوں نے اس کو تھوڑی دیر کے لئے مبہوت کر دیا۔ "آپا، وہ مالکہ کی لڑکی سے بولا "کیا اللہ میاں کے یہاں ایسا بستر ہو گا۔ " وہ اپنے اس سوال میں اتنا گم تھا کہ وہ یہ بھی نہ سن سکا کہ لڑکی یہ کہتی ہوئی چلی گئی ہے" بیوقوف وہاں تو اس سے بھی اچھے بستر ہوں گے۔ "
گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو موجودہ زمانے میں سارے لوگ اسی نفسیات میں مبتلا نظر آئیں گے، چھوٹے بڑے امیر غریب، عالم جاہل، سب کے سب دنیا کی دلفریبیوں پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ لذت، دولت، شہرت، عزت، مرتبہ اقتدار، غرض دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کا ایک ذرہ بھی اگر کسی کے سامنے آگیا ہے تو وہ اس کی طرف اس طرح دوڑ رہا ہے الرسلہ اکتوبر ۱۹۷۶ء
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues