وہ ابھی تک دستکاری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۰
اس کی صاف ستھری فضا میں بیٹھے تو ان کے دل کو ایک خاص طرح کی خوشی محسوس ہوئی ۔ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انھیں اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ عین اس وقت ان کے میزبان آگئے ۔ ”اس شخص سے اتنا بھی یں ہو سکتا کہ مسجد کی صفائی کرے “ اس کو دیکھتے ہی ان کے اندر یہ احساس ابھرا ” یہ دین کے اوپر لمبی لمبی تقریریں کرتا ہے۔ مگر عمل کا یہ حال ہے کہ اپنے پڑوس کے خانہ خدا کو درست نہیں کر سکتا ۔ اس احساس نے بہت جلد ان کے لاشعور میں یہ جذبہ ڈال دی کہ دین میں اس سے زیادہ ہوں۔ میری دین داری کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں “ دن گزر گیا۔ شام کو وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اجنبی شخص اندر داخل ہوا۔ اس کا دبلا پتلا چہرہ اور اس کے پھٹے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کوئی غریب مسافر ہے۔ بزرگ نے اس کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام تو کہا مگر دل میں سوچا ” یہ شخص بھی کتنا بے وقت آیا ہے، اب اس کے لئے رات کے کھانے کا انتظام کرنا ہوگا۔ رات بھی شاید وہ اسی مسجد میں گزارے اور میری تنہائی میں خلل ڈالے “ ابھی وہ اسی انقباض میں تھے کہ ان کے میزبان مسجد میں داخل ہوئے۔ مسافر کو دیکھ کر انھوں نے فوراً آگے بڑھ کر اس کو سلام کیا ، اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہاں سے آنا ہوا۔ پھر اس کے حالات معلوم ہونے کے بعد خود ہی بولے ” آج آپ یہیں قیام کریں اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں “ میزبان نے یہ ساری باتیں اس طرح کیں گویا یہ نو وارد ایک غریب مسافر نہیں، ایک نعمت ہے جو خدا نے اس وقت خصوصی طور پر ان کے لئے بھیج دیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد بزرگ نے محسوس کیا کہ ان کے دل میں نئی ہلچل پیدا ہورہی ہے ”مسجد کی صفائی کے معاملہ میں میں نے اپنے میزبان پر سبقت کی تھی۔ مگر مسافر کی خدمت کے معاملہ میں وہ مجھ سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے“ انھوں نے اپنے دل میں کہا ” اگر میرے اندر ایک خصوصیت ہے تو میزبان کے اندر دوسری خصوصیت ہے، اور کیا معلوم مسجد کی صفائی کے مقابلہ میں مسافر کی خدمت اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ اس خیال کا آنا تھا کہ انھوں نے توبہ کی اور سجدہ میں گر کر اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کو اور ان کے میزبان کو ہدایت دے اور اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے۔
ہماری دنیا فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر وقت اندیشہ ہے کہ آدمی کسی گڑھے میں جاگرے۔ مگر اوپر کے واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ نے یہاں بچاؤ اور اصلاح کے بھی بے شمار مواقع رکھ دیئے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر ایمانی جذبہ نہ زندہ ہو تو ہر فتنہ کے وقت اس کو اپنے قریب ہی ایک روشنی مل جائے گی جس سے فائدہ اٹھا کر وہ دوبارہ اپنے نجات کے راستہ کو پا سکتا ہے۔ مگر جب ایمان کی چنگاری بجھ جائے تو وہ بچاؤ کے الہی انتظام سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ وہ پھسلن پر گرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس آخری گڑھے میں پہنچ جاتا ہے جس سے پھر آدمی کو نکلنا نہیں ہے : جو خدا سے ڈرنے والے ہیں جب ان پر شیطان کا گزر ہوتا ہے، وہ چونک جاتے ہیں ۔ پھر انھیں سوجھ آ جاتی ہے اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کسی طرح نہیں تھمتے ۔ (اعراف ۲۰۲)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues