وہ ابھی تک دستکاری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۹
آپکے پاس خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے ہر وقت بتا رہے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔
ایک بزرگ کو ان کے پڑوسی نے تکلیف پہنچائی۔ وہ اس سے سخت ناراض ہو گئے " اب میں نہ اس سے بات کروں گا اور نہ اس سے تعلقات رکھوں گا" انھوں نے اپنے دل میں سوچا۔ اس کے اگلے دن اتفاق سے ان کے لڑکے سے بھی ان کو ایک تکلیف پہنچی۔ وہ اس سے سخت ناراض ہوئے اور غصہ میں گھر سے باہر نکل آئے۔ رات تک ان کا غصہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ سو گئے۔ اگلی صبح کو سو کر اٹھے تو انھیں محسوس ہوا کہ ان کے دل میں اپنے بچے کے لئے وہ باز ہی محبت ہے جو پہلے تھی۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو بلایا اور لطف ومحبت کے ساتھ اس سے بات کر کے کل کے غصہ کی تلافی کی۔
"اگر میں اپنے لڑکے کا قصور معاف کر سکتا ہوں تو کیا اسی طرح میں اپنے پڑوسی کا قصور معاف نہیں کر سکتا" ان کے دل میں خیال آیا، اور اچانک انھیں محسوس ہوا کہ لڑکے کی غلطی کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سبق دیا ہے۔ " اولاد جن مصلحتوں کے تحت دی جاتی ہے ان میں سے ایک مصلحت شاید یہ بھی ہے کہ انسان کو بتایا جائے کہ وہ کس طرح ایسا کر سکتا ہے کہ ایک قصور وار کا قصور معاف کر دے۔ اگر آدمی کو اولاد نہ دی جاتی تو اس اخلاق محبت کا عملی سبق کسی اور طرح اس کو نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ سے معافی مانگی اور اپنے پڑوسی سے مل کر اس کو خوش کیا۔
اگر آدمی کے سینہ میں ضمیر زندہ ہو اور وہ خدا کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہو تو اسی طرح ہر دن وہ اپنے گرد و پیش خدا کی آواز سنتا ہے۔ وہ ہر موڑ پر دیکھ سکتا ہے کہ خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے بتا رہے ہیں کہ اس کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آواز صرف ان لوگوں کو سنائی نہیں دیتی جن کے کان خدا کی آواز سننے کے لئے بہرے ہو چکے ہیں۔ وہ خدا کی آواز صرف اس وقت سنیں گے جب اسرافیل کی چنگھاڑ ان کے کان کے پردے پھاڑ دے۔
ایک بزرگ ایک شخص کے یہاں مہمان ہوئے اس آدمی کے گھر سے ملی ہوئی مسجد تھی جس میں نمازی بہت کم آتے تھے۔ بزرگ نے اپنے سکون کی خاطر مسجد میں قیام کو پسند کیا۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ عرصہ سے اس کی صفائی نہیں ہوئی ہے۔ یہ برسات کا زمانہ تھا۔ اس لئے ٹپکنے سے اور بوچھار سے مسجد کی صفیں جگہ جگہ سے بھیگ گئی تھیں اور ان میں بو بھی پیدا ہو گئی تھی۔ اگلے دن سورج نکلا تو بزرگ نے ساری صفیں نکال کر باہر دھوپ میں پھیلا دیں۔ مسجد میں خوب صفائی کی۔ اس کے بعد صفوں کو سکھا کر اور جھاڑ کر اپنی جگہ دوبارہ بچھا دیا۔ بزرگ جب پہلی بار مسجد میں داخل ہوئے تھے تو اس کی حالت دیکھ کر انھیں سخت انقباض ہوا تھا۔ اب جو وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues