Al-Risala · December 1976 · page 12

مطالعہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۲

کیا چیز روک رہی ہے کہ وہ ایسا کلام بنا کر دنیا کے سامنے رکھ دیں۔ اس طرح وہ اپنے دعوے کو زیادہ بہتر طور پر ثابت کر سکیں گے۔

تاہم زیر نظر کتاب کے صفحہ 11 پر اس کی ایک چھوٹی سی مثال موجود ہے۔ قرآن کی آیت لایا تون بمثلہ (بنی اسرائیل - (۴۸) کے مفہوم کو مصنف نے اپنے طور پر یعجزون عنہ کے لفظوں میں لکھا ہے عربی جاننے والوں کے لئے انھیں دونوں فقروں کا تقابل قرآن کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کیسی عجیب بات ہے، انسان اس ایک فقرے کے مانند بھی کوئی فقرہ وضع نہیں کر سکتا کہ " وہ ایسا قرآن بنا کر نہ لاسکیں گے ، پھر بھی اس کو اصرار ہے کہ قرآن کوئی ادبی معجزہ نہیں۔ سائنسی دور میں اس سے زیادہ غیر سائنسی موقف کی کوئی دوسری مثال نہیں ملے گی ۔

وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے جو ۔ ۔ ۔

چوتھی صدی ہجری کے آخر میں جب اسپین میں طوائف الملوکی شروع ہوئی اور صوبوں کے گورنر مرکز سے بغاوت کرنے لگے تو چھوٹی چھوٹی بہت سی آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مثلاً قرطبہ میں بنو حمود، اشبیلیہ میں بنو عباد، بطلیوس میں ابن افطس، وغیرہ ۔ اشبیلیہ میں بنو عباد کی حکومت ۱۳۵۲ھ میں قائم ہوئی اور ۸۰ برس رہ کر ختم ہوگئی ۔ شاہ مراکش یوسف بن تاشفین نے جب اسپین پر چڑھائی کی تو اس کا آخری فرماں روا معتمد بن عباد اشبیلیہ کے تخت پر تھا۔ ۱۴۴۸ھ میں اس نے معتمد کو گرفتار کر لیا اور اس کو مراکش کے ایک مقام اغماث میں قید کر دیا۔ چار سال قید میں رہ کر وہ ۱۴۴۸ھ میں مرگیا معتمد بن عباد جس زمانہ میں قید میں تھا ، عید کے دن اس کی لڑکیاں اس سے ملنے کے لئے آئیں، اس وقت اس کے غم انگیز تاثرات اشعار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ چند اشعار یہ ہیں : فيما مضى كنت بالاعياد مسرورا - فساءك العيد في اغمات مأسورا ترى بناتك في الاطمار جائعـة - يغزلن للناس ما يملكن قطميرا يطأن في الطين والاقدام حافيـة - كانها لم تطأ مسكا وكافورا قد كان دهرك ان تامره امتثلا - فرادك الدهر منهيا و مامورا من بات بعدك في ملك يسرُ بـه - فانما بات بالاحلام مغرورا ماضی میں تو خوشی کے ساتھ عید مناتا تھا، مگر آج اغمات کے قید میں تیرے لئے عید کی کوئی خوشی نہیں ۔ تو اپنی بیٹیوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ بھوکی، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے سوت کاتتی ہیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔

وہ کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتی ہیں، گویا کہ ان پیروں نے کبھی مشک اور کافور کو روندا ہی نہیں ۔ ایک وقت وہ تھا کہ زمانہ تیرے حکم کا تابع تھا، آج زمانہ نے تجھ کو محروم و محکوم بنا دیا ہے۔ تیری اس حالت کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص حکومت پر خوش ہوتا ہے تو وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page