Al-Risala · December 1976 · page 16

تاج محل کو دیکھ کر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۶

سب سے بڑا عمارتی عجوبہ کھڑا ہوا ہے۔ تاج محل کے سامنے پہنچا تو آنے جانے والے زیادہ تر بیرونی سیاح تھے۔ "تاج شاید صرف ان لوگوں کے لئے تاج ہے" میں نے سوچا" جنھوں نے ابھی تاج کو دیکھا ہو۔ جس نے ایک بار تاج کو دیکھ لیا ہو، اس کے لئے تاج کی کوئی اہمیت نہیں۔ " تاج محل شاہ جہاں (۱۶۵۸-۱۶۳۲) نے بنوایا تھا۔ یہ شاہ جہاں کی بیگم ممتاز محل کا مقبرہ ہے جو ۱۵۹۲ میں شاعری اور تصنیف ١٤١٢ میں نکاح ہوا۔ شاہجہاں سے اس کا ارچودہ پیدا ہوئی ۔

بچوں کی پیدائش کے بعد 1631میں اس کی وفات ہوگئی۔ تاج محل کی تعمیر 1631میں شروع ہوئی اور 1653 میں وہ بن کر تیار ہوا۔ پہلے اس میں ممتاز محل دفن کی گئی تھی۔ اس کے بعد جب شاہجہاں کی وفات ہوئی تو اس کو بھی اس کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ دونوں کی قبریں ساتھ ساتھ ایک تہ خانہ کی سی غیر جاذب کوٹھری میں بنی ہوئی ہیں اور اس کے اوپر وہ عظیم الشان عمارت ہے جو تاج محل کے نام سے مشہور ہے۔

"تاج محل کو دیکھ کر مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ۲۲ برس میں بن کر تیار ہونے والی یہ عمارت بلا شبہ آرٹ کا ایک نمونہ ہے۔ مگر کاش وہ تعمیر اسلام کا ایک نمونہ نہ ہوتا۔ ایک عورت کی قبر کے لئے اتنی عظیم الشان عمارت کھڑی کی گئی ہے، حالاں کہ انھیں پتھروں سے ایک عظیم ملی ادارہ بھی بنایا جاسکتا تھا۔ رشید رضا مصری ستر برس پہلے ہندوستان آئے تو انھوں نے کہا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی سلطنت ایک ہزار برس تک رہی، مگر یہاں شاہی دور کی کوئی بڑی درس گاہ نہیں۔ مگر جن لوگوں کو قبر گاہ بنانے سے دل چسپی ہو، وہ ملت کی زندگی کے لئے درس گاہ کب تعمیر کر سکتے تھے کا فرق ایک شاعر دو گھنٹہ تک قلم کا غذ میں مشغول رہ کر ایک عدد غزل“ کا خالق بن سکتا ہے مگر ایک زندہ اور مؤثر کتاب اسی وقت وجود میں آتی ہے جب کہ برسوں تک اس کے لئے علمی اور تحقیقی جد وجہد کی گئی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page