Al-Risala · December 1976 · page 17

تاج محل کو دیکھ کر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۷

ایک بہت بڑے شاعر کو میں نے ایک بار دیکھا۔ وہ ایک غزل لکھ رہے تھے۔ غزل کا آخری لفظ تھا : ”انساں بنا دیا "۔ میں نے دیکھا کہ کاغذ کے کنارے انھوں نے بہت سے ہم وزن الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ مثلاً گلستاں، چمنستاں، زنداں، خموشاں، ویراں، بہاراں وغیرہ۔ ان الفاظ کو ذہن میں رکھ کر مضامین سوچتے ہیں اور جب لندن کے اخبار ٹائمز میں اشتہار دیا کہ جن لوگوں نے م. ب. ۱۹ کے درمیان ہندوستان میں کام کیا ہے وہ اپنے پتے سے ہم کو مطلع کریں۔ جواب میں ان کو دو ہزار خطوط ملے۔ انھوں نے ان تمام لوگوں کے پاس اپنی ٹیم بھیج کر انٹرویو لئے اور رپورٹ تیار کی۔ انھوں نے ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کے تین سفر کئے اور مختلف کوئی مضمون اس ردیف و قافیہ میں ڈھل جاتا ہے تو اسے بچاسنے کا غذ پر لکھ لیتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دو گھنٹے کے بعد وہ اس پوزیشن میں تھے کہ مشاعرہ میں یہ کہہ سکیں کہ: "تازہ غزل حاضر ہے"

۔ میں نے پزندگ شاعر سے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ آپ اردو، عربی، فارسی جاننے والوں سے مل کر بارہ ہزار انٹرویو تیار کئے ۔ ان کی تحقیق اور دستاویزات اور انٹرویو کے کاغذات کا وزن ایک ٹن سے زیادہ تھا۔ مگر ان کے فرانس کے دفتر میں ان کو اس طرح ترتیب سے رکھا گیا تھا کہ ان کی خاتون سیکرٹری کسی مخصوص کاغذ کو صرف ایک منٹ میں نکال سکتی تھی ۔ اب انھوں نے کتاب لکھنا شروع کی۔ نصف حصہ اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کو تو نثْر کی چیزیں لکھنی چاہئیں ۔ اس قسم کی شاعری آپکے شایانِ شان نہیں " انھوں نے جواب دیا : تم سچ کہتے ہو۔ مگر نثْر میں لکھنے کے لئے مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت ہے اور وہ مجھ سے ہوتی نہیں۔ اگر مطالعہ اور تحقیق کے بغیر نثر لکھوں تو ایک پارہ ادب ضرور تیار ہو جائے گا۔ مگر ایسی کوئی کتاب نہیں بن سکتی جس کی آج کی دنیا میں قدر و قیمت ہو۔ "

یہ شعر کی مثال تھی ۔ اب دیکھئے کہ ایک " کتاب" کس طرح لکھی جاتی ہے ۔

ایک امریکی لاری کولنس (Larry Collins)

اور فرانسیسی ڈومینیک لپیری Dominique Lapierre نے مل کر ہندوستان کی آزادی پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : " نصف شب کی آزادی " اس کتاب کی تیاری میں ان کے چار سال سے زیادہ لگے۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page