Al-Risala · December 1976 · page 30

تاج محل کو دیکھ کر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۰

ڈاکڑ موصوف کے نزدیک کثافت(pollution) Pollution کا مسئلہ اصلا یہ مسئلہ نہیں ہے کہ انسان مر جائے گا بلکہ یہ کہ وہ انسانی اوصاف کھودے گا۔ انسان کی خطرناک حالات سے مطابقت پیدا کر لینے کی صلاحیت اس کے لئے اصل مسئلہ ہے۔ اب انسان یا تو زندگی کی خصوصیات کو ترقی دے گا یا نئے تمدنی حالات میں وہ انسان سے کمتر درجہ کی ایک چیز ہو کر رہ جائے گا : Man must improve the quality of life, or he may become something less than human ڈاکٹر چانسی لیک (طبی مرکز کیلی فورنیا یونیورسٹی) نے شور وغل کے مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ شور وغل صرف کان ہی کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے پورے جسم کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ آواز کی کمی بیشی کو ناپنے کے لئے اس کی ایک اکائی مقرر کی گئی ہے جس کو ڈیسیبل کہتے ہیں۔ اگر بیس فٹ کے فاصلے پر ایک ٹرک تیزی سے گزر جائے تو اس سے نوے ڈیسیبلیں آواز پیدا ہوگی۔ پانچ سو فٹ کے فاصلے پر ریل گاڑی بجائے تو اس سے بھی نوے ڈیسیبلیں آواز ہو گی۔ زیر زمین ریل گاڑی اگر پچاس فٹ کے فاصلے پر گزر جائے تو اس سے جو آواز آئے گی وہ پچانوے ڈیسیبلیں ہوگی۔ تعمیراتی کاموں کے سلسلے میں جہاں مختلف مشینیں استعمال کی جاتی ہیں وہاں تقریباً ایک سو دس ڈیسیبلس کے برابر شور ہوگا۔ جیٹ ہوائی جہاز جب پانچ سو فٹ کے فاصلے پر اڑتا ہے تو ایک سو پندرہ ڈیسیبلس کے برابر شور ہوتا ہے۔ شور وغل کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر پانی اور نمک کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ دیر تک اگر شور ہوتا رہے تو اس سے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ دستر خوان پر ایک طرف دودھ، انڈا ،سیب جیسی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف چاکلیٹ، پیسٹری اور مٹھائیاں۔ ماں کی ساری کوشش یہ تھی کہ اپنے بچہ کو دودھ، انڈا اور سیب کھلائے۔ مگر بچہ ان کو لینے کے لئے کسی طرح تیار نہ تھا۔ وہ مسلسل چاکلیٹ اور مٹھائیوں پر ہاتھ مار رہا تھا۔

دنیا کا یہ عجیب قانون ہے کہ جو چیز جتنا زیادہ بے فائدہ ہو، اتناہی زیادہ وہ لذیذ اور خوبصورت ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس جو اہم اور مفید چیزیں ہیں، ان میں نسبتاً کوئی ظاہری کشش نہیں ہوتی۔ شاید قدرت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم اپنی تمیز کی قوت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ تماشے کی باتیں مثلاً شکاریات، فلمی اور جاسوسی کہانیاں، سکینڈل کے سنسنی خیز فیچر، عام انسان کے لئے اپنے اندر بے حد کشش رکھتے ہیں، اسی طرح جنگی داستانیں، فتو حات کے قصے، کشف و کرامت کے افسانے لوگوں کو ذہنی شراب کی طرح اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اس کے مقابلہ میں ایسے مضامین جن میں تعمیری سبق دیا گیا ہو تو واقعات عالم کا سائنسی مطالعہ کرنا سکھاتے ہوں ، جو یہ بتاتے ہوں کہ زندگی کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے ، ان میں لوگوں کے لئے کوئی دل چسپی نہیں۔ لوگ زہر کی طرف دوڑ رہے ہیں، امرت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے لئے بھی کسی کے پاس وقت نہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے ہی انسان بچے ہیں۔ کوئی عمر کے لحاظ سے بچہ ہے، کوئی سمجھ کے لحاظ سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page