Al-Risala · December 1976 · page 19

تاج محل کو دیکھ کر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۹

اوصاف کو تیزی سے کھوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بالآخر وہ ایک قسم کا حیوان بن کر رہ جائے گا اور انسانی آبادیوں کی حیثیت ایک نئے قسم کے جنگل سے زیادہ نہ ہوگی۔

"میں یہ سنتے سنتے اکتا گیا ہوں، وہ لکھتے ہیں کہ انسان فنا (Extinction) کے راستے پر جا رہا ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں انسان ایسے خطرات سے دوچار ہے جو فنا سے بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری ٹکنالوجی اور ہماری بے قید بڑھتی ہوئی آبادیاں نیو یارک اور ٹوکیو جیسے شہروں کو غلاظت (Dirt) آلودگی (Pollution) اور شور و غل (Noise) سے بھر رہی ہیں۔ اور یہ سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔

جنگلی جانور چڑیا خانوں میں رہ سکتے ہیں۔ اس قیمت پر کہ وہ اپنی بہت سی فطری خصوصیات کھو دیں۔ اسی طرح انسان بھی اپنی تکنیکی تہذیب کے بنائے ہوئے کثیف کٹہرہ میں رہ سکتا ہے۔ مگر ایسی حالت میں ہم اپنی انسانیت کی بہت سی چیزیں قربان کر دیں گے۔ ان کے نزدیک یہ خطرہ انسان کی صلاحیت مطابقت (Adaptabilit) میں ہے۔ فرانسیسی عالم حیاتیات لوئی پاسچر نے ۱۸۶۷ میں تجربہ سے ثابت کیا تھا کہ انسان کے ایک مجموعہ کو اگر ایک ایسے کمرہ میں بھر دیا جائے جس میں ہوا کا گزر کم ہو تو وہ دھیرے دھیرے اس سے مطابقت کر لیتے ہیں حتی کہ اس احساس سے بھی خالی ہو جاتے ہیں کہ وہ کمتر ہوا میں سانس لے رہے ہیں اگرچہ اس مطابقت میں وہ اپنی صحت کا بڑا حصہ کھو دیں گے۔

پاسچر نے ایک چڑیا کو ایک ایسے پنجرے میں رہنے کا عادی بنایا جس میں ہوا بہت کم ملتی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے اس کی عادی ہو گئی۔ وہ زندہ تھی اگرچہ ایک غیر متحرک پرندہ کے طور پر۔ اس کے برعکس پاسچر نے اسی پنجرہ میں اچانک ایک اور پرندہ ڈالا تو وہ فوراً مر گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page