Al-Risala · December 1976 · page 22

How to Stop Worrying and Start Living

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۲

ڈارون (۱۸۸۲۔ ۱۸۰۹) کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیڑے مکوڑے اپنے اعضا میں ترقیاتی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے اور بکری نے ترقی کر کے زرافہ کی صورت اختیار کر لی۔ پچھلے سو برس کے دوران یہ ایک مسلمہ سائنسی عقیدہ بن گیا تھا۔ مگر حالیہ مطالعہ نے اس عقیدہ کو علمی حیثیت سے متزلزل کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر معلوم ہوا ہے کہ زمین کی عمر اس اندازہ سے بہت کم ہے جو ارتقائی طور پر زندگی کی انواع کو وجود میں لانے کے لئے ضروری ہے۔ اب علمائے حیاتیات کا قیاس یہ ہو رہا ہے کہ زمین سے باہر کائنات کے کسی مقام پر انسان جیسی تہذیب موجود ہے اور اس نے بالقصد زندگی کا جرثومہ اوپر سے زمین پر بھیجا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ درپیش ہے۔ کائناتی وقت اتنا کافی نہیں کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں۔ ایک زمین پر۔ دوسری کسی اور سیارہ میں۔ گویا انسانی علم وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ایک قادر مطلق کے وجود کو تسلیم کر لے ۔ ارتقاء کا مفروضہ قافلہ کائنات کی معلوم شاہراہوں میں اپنا راستہ نہ پاسکا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page