Al-Risala · December 1976 · page 23

How to Stop Worrying and Start Living

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۳

زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی، اس کے بارے میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے دو ممتاز عالے کیولر نبایوں ہیں ۔ ایک ، نوبل انعام یافتہ فرانس کریک (Francis Crick) دوسرے لزلی آرگل (Leslie Orgel) اس نظریہ کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز تو خود بخود ہوا اور نہ اس طرح کہ کچھ ملین سال پہلے ایک ابتدائی مادہ سے ایک جسم حیوانی (Organism) بنا اور اس سے تدریجی ارتقا کے ذریعے زندگی کی انواع وجود میں آئیں۔ بلکہ زندگی ایک ایسے تجربے کا نتیجہ تھی جو کچھ غیر ارضی ہستیوں (Extra-terrestrial Beings) نے کئی جگ پہلے منظم کیا تھا۔

کریک اور آرگل ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ ہمارے کہکشانی نظام کے دوسرے سیاروں میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہیں، یہ خیال کرتے ہیں کہ اسی قسم کے کسی سیارہ کے باشندوں نے کچھ ہزار ملین سال پہلے طے کیا کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ کیا ان کے پڑوسی سیاروں میں زندگی اپنے لئے نیا ماحول پیدا کر سکتی ہے چنانچہ انھوں نے ہماری کہکشاں کے کچھ سیاروں پر زندگی کے جراثیم ڈالے۔ اسی قدیم تجربہ کا نتیجہ ہماری موجود تہذیب ہے۔

کے کیمیسٹ ارے نیس (Arrhenius) نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ تخیل پیش کیا کہ کچھ بیکٹیریائی اجزاء جو کسی ایسے سیارہ سے جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی، زمین پر آگئے اور پھر تدریجی ارتقاء کے ذریعہ اقسام حیات کو وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ارے نیس نے اس طریق عمل کو ”پینس پرمیا“ کا نام دیا۔ اس نظریہ کو اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ بیکٹیریا بین سیاراتی سفر میں خطر ناک ریڈ ایشن کے مقابلہ میں زندہ نہیں رہ سکتا، لارڈ کلون (Kelvin) نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ” ہو سکتا ہے کہ بیکٹیریا کسی شہابے سے چپک گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر نہ زمین پر آیا ہو۔ “ اگر چہ یہ ممکن ہے کہ بیکٹیریائی اجزار شہابے پر سوار ہو کر بین سیاراتی سفر کریں، تاہم پینس پرمیا کا نظریہ کبھی سائنس دانوں کے لئے قابل قبول نہ ہو سکا تھا۔ اس نظریہ کا اساسی مقدمہ یہ ہے کہ زندگی اس سے پہلے کہیں موجود تھی، جب کہ اس نظریہ میں اس کا جواب نہیں ملتا کہ دوسرے سیارہ پر زندگی کیسے وجود میں آئی۔ کریک اور آرگل، یہ مانتے ہوئے کہ بیکٹیریائی اجزاء کی اتفاقی ہجرت ناممکن ہے، کہتے ہیں کہ اس وقت یہ قابل قیاس ہو جاتا ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ بالقصد کسی نے زندگی کے جراثیم کو زمین پر بھیجا ہو۔ وہ اس عمل کو معین سپنس پرمیا (Directed Panspermia) اکیسویں صدی میں داروئن کے نظریہ کے بعد اہل مذاہب کا مخصوص تخلیق کا نظریہ علماے سائنس کے درمیان ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سائنس داں اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں سرگرداں تھے کہ زندگی شروع کس طرح ہوئی ۔ اس بحث کے دوران سویڈن کا نام دیتے ہیں ۔

اس نئے نظریہ کے ثبوت میں کریک اور آرگل دو۔ حیاتیاتی مسئلوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔ ان میں سے ایک جینٹک کوڈ ہے۔ ہر ایک موجودہ زمانہ میں تسلیم کرتا ہے کہ زمین پر زندگی کی تمام قسموں کے لئے صرف ایک کوڈ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page