دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۹
گویا زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو "خدا کے یہاں بھلا ایسی شان دار چیزیں کہاں ملیں گی ، پھر کیوں نہ اسی دنیا میں جو کچھ ملے اس کو حاصل کر لیا جائے ۔ "
سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مذہبی لوگوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے اہل دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو دنیوی امکانات ان کے لئے کھلے ہیں ان کی طرف دوڑ بھاگ میں وہ دوسروں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہیں۔ عہدوں اور مناصب کی دھوم ، صدارت و نظامت کے اعزازات، جلسوں اور جلوسوں کی نمائش۔ بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے پروانہ ایڈریس اور استقبال کے تماشے، اخبارات کی سرخیوں میں چھپنا اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا شوق ان کو بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی عام دنیا دار کو ہو سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص آخرت پر تقریر کر رہا ہے اس کو بھی آخرت کا یقین نہیں ۔ اگر ہے تو بہت کم۔ ایک کامیاب ترین انسان جب موت کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ دروازہ کے دوسری طرف اس کے لئے مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوور ڈربار ڈ ہیوز امریکہ کا ایک ممتاز ترین ارب پتی تھا۔ اپریل ۱۹۷۶ میں ایک ہوائی سفر کے دوران اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس نے ہوائی جہاز کو فوراً ہاڈ سٹْن میں اتار گیا ۔ مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہو چکا تھا۔ کی یہ وحشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کر رہی ہے جو ایک آدمی کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو اس کے پیچھے وہ زندگی ہو جس کی وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔ اپنے قانون داں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالر بطور وراثت ملے تھے۔ مگر اس نے اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو ۳۰۰ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھا لیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تاثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکہ تیار کیا ہے۔ اس خاکہ میں اس کے سفریات کے آخری لمحات کو مصور کیا گیا ہے ۔ امریکہ کا کامیاب ترین تاجر اس خاکہ میں وحشت ، مایوسی بے چارگی ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے ۔ امریکی تاجر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues