Al-Risala · December 1976 · page 30

حصہ اول ، پندرہویں قسط 2

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۰

کے قابل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر آنے سے پہلے نئی تاریکی پچھلے ستمبر میں دو ہم عمر فن کاروں کے موت کا دائرے کے پتے نرنجن سنگھ طالب (۱۹۰۱ - ۱۹۷۷) نئی دہلی میں اپنے مکان پر تھے۔ انھوں نے ایک پیالی چائے پی ۔ اس کے بعد ہی انھیں سینہ میں درد محسوس ہوا۔ فوراً قریبی ڈسپنسری سے ایک ڈاکٹر بلایا گیا۔ ڈاکٹر ان کے مکان پر پہنچا تو اس کے لئے صرف یہ مقدر تھا کہ وہ مریض کو دیکھ کر یہ اعلان کرے کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ نرنجن سنگھ طالب پنجاب کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا کے ممبر تھے۔ اس سے پہلے وہ پنجاب کی کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ہندوستان سے بھاگ کر جرمنی پہنچنے میں مدد کی تھی، جس کے نتیجہ میں ان کے اوپر انگریزوں نے مقدمہ چلایا۔ 1923میں وہ اپنے صوبہ پنجاب سے نکال دیئے گئے۔ پیغام آگیا ۔ ایک ، بنگال کے باغی شاعر قاضی نذر الاسلام (۱۸۹۹-۱۹۷۶) دوسرے مہاراشٹر کے سماجی ناول نگار دی ایس کھنڈیکر (۱۹۹۸-۱۹۰۸)۔ دونوں کو غیر معمولی شہرت اور عزت ملی۔ مگر دونوں مسلسل بیماری اور حادثات کا شکار رہے ۔ حتیٰ کہ دونوں اپنی آنکھ سے محروم ہو چکے تھے قاضی نذر الاسلام کی آنکھ ۱۹۴۲ میں فالج کے حملہ میں ختم ہوگئی ۔ کھنڈیکر کی آنکھ عرصے سے نہایت کم زور ہو چکی تھی۔ موت سے تقریبا تین سال پہلے وہ بالکل ہی اندھے ہو گئے ۔ کھنڈیکر سے آخر عمر میں ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ آنکھوں کے چلے جانے کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا :

I have adjusted myself to this new darkness. میں نے اپنے آپ کو اس نئی تاریکی سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔ لا، اگر آئیں، مرتقى آگیا ، سہاگ رت ہے، گھر آموسے کے الرسالہ الپاپ لو پسند ہے تو یقیناً آپ چاہیں گے کہ وہ آپ کے دوستوں اور عزیزوں تک بھی پہنچے آپ اپنا سالانہ زرِ تعاون بھیجتے ہوئے ایسے پانچ پتے ہمیں بھیج دیں۔ اعلان ہم ان کے نام نمونہ کا پرچہ مفت روانہ کر دیں گے۔ یے تو پچ فکتاں ہیں ۔

حصہ اول ، پندرہویں قسط 2

ایجنٹ حضرات لوجو پرچے بھیجے جا رہے ہیں ، ان میں سے جو پرچے فروخت ہونے سے رہ جائیں وہ ہم واپس لے لیں گے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page