Al-Risala · December 1976 · page 29

کوئی وقت نہیں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۹

گئے تھے۔ اب ان کا پوتا پرنس جوان کارلو زڈی بورون دوبارہ اسپین کا حکمراں ہے جس کو جنرل فرانکو نے اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا عام اسپینی مزاج کے برعکس جنرل فرینکو میں دونہایاں خصوصیتیں پائی جاتی تھیں احتیاط اور نرمی ۔ فرینکو نے ایک بار سمندر میں مچھلی کا شکار کھیلنا چاہا۔ اس وقت سمندر میں طوفان تھا۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ سمندر میں داخل نہ ہوں۔ مگر وہ مصر رہے۔ ان کی بیوی دونا کار مینا نے کہا "اگر آپ ان موجوں میں ڈوب گئے تو اسپین کا کیا ہوگا؟ " فرینکو نے جواب دیا " خدا اسپین کی حفاظت کرے گا “ کھدائی ختم نہیں ہوئی سرمورٹی مرد هیلر (۱۹۷۰-۱۸۸۹)

اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ آثار قدیمہ کے عالم تھے۔ انگلستان کے تین تاریخی مقامات (سڈنی ، وٹیر لایم میڈن کیل) کی کھدائی کے بعد ان کو کافی شہرت حاصل ہوئی اور وہ رومن آرکیا لوجی کے ماہر سمجھے جانے لگے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ غیر منقسم ہندوستان میں آرکیا لوجیکل سروے کے ڈائرکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان اور پاکستان کے مختلف تاریخی مقامات کی کھدائی کی اور آثار قدیمہ سے متعلق دوسرے اہم کام انجام دیے۔ ۔

ہندوستان میں جب ان کا تقرر ہوا تو یہاں کے پریس میں ان کو نا اہل ثابت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ : ” وہ رومن آرکیا لوجی کے ماہر ہیں۔ ہندوستان کے علم الآثار میں وہ ہمارے کیا مددگار بن سکتے ہیں ! مگر اپنے اعلیٰ کام سے انھوں نے اتنی اہلیت ثابت کی کہ آزادی کے بعد بھی وہ ہمارے محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے بار بار ہندوستان بلائے جاتے رہے۔ حتیٰ کہ آزادی سے پہلے اپنی چار سالہ ملازمت کے دوران انھوں نے پانڈیچری کے پاس آریکا میڈو کی کھدائی کر کے یہ بھی ثابت کیا کہ رومن ہندوستان تک پہنچ گئے تھے۔

سروھیلر نہایت محنتی اور ذمہ دار آدمی تھے۔ ان کا قول تھا :

Every excavation is destruction unless it is properly recorded. کھدائی کا ہر کام برباد کرنے کا کام ہے۔ جب تک کہ اس کو صحیح طور پر ریکارڈ کرنے کا انتظام نہ کیا گیا ہو۔ سروھیلر کو اپنی پوری زندگی ”کھدائی“ کی زندگی نظر آتی تھی۔ شاید انھیں یہ احساس تھا کہ وہ ابھی تک اصل حقیقت تک نہیں پہنچے ہیں۔ انھوں نے اپنے بعد اپنی خود نوشت سوانح عمری چھوڑی ہے اس کا نام معنی خیز طور پر اب بھی کھدائی کرتے ہوئے STIII DIGGING تجویز کیا ہے۔

کوئی وقت نہیں

کرشن بھاٹیا (م۔ ۱۹۲۵) ان انتہائی چند ہندوستانیوں میں تھے جنھوں نے ملکی صحافت میں تجزیاتی تحریر(analytical (Analytical Writing) کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اپنی عمر کے آخری آٹھ سال انھوں نے واشنگٹن میں ہندوستان ٹائمز کے کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے گزارے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۷۴ کو جب ریڈیو نے بتایا کہ اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے واشنگٹن میں ان کا انتقال ہو گیا تو بہت سے لوگ اچنبھے میں پڑ گئے کیونکہ موت کے وقت کرشن بھاٹیا پوری طرح تندرست اور توانا تھے اور زندگی کے اس آخری کنارہ پر پہنچ چکے تھے جب کہ آدمی اپنی صلاحیتوں کو کامیاب ترین شکل میں استعمال کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page