Al-Risala · February 1977 · page 31

WE CAN'T AFFORD FREEDOM

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱

رات کی قندیلیں ہیں جو آسمان پر دیوتاؤں کے لئے جلائی جاتی ہیں۔ اسی طرح چاند کے گھٹنے بڑھنے کو وہ حقیقی سمجھتا تھا۔ سورج کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ صبح کو "نکلتا" اور شام کو "ڈوب" جاتا ہے۔ یہ تغيرات آج "آنکھ کا دھوکا" ثابت ہو چکے ہیں۔ تاہم جدید انسان نے دوسرے اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے تغيرات کا مشاہدہ کیا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ان ظاہری تغيرات سے قوانین کی ابدیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حیاتیات کی دنیا، جدید دنیا کے مطابق، مسلسل تغيرات کا شکار رہتی ہے۔ علم الخلایا نے بتایا ہے کہ انسانی جسم کے تمام اعضاءبال اور ناخن سے لے کر گوشت اور خون تک ہر آن بدلتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود کسی سائنس داں نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ حیاتیات اور عضویات کے علم کو ہر سال بدلا جائے، اور ان کو بار بار "نئے حالات" کے مطابق مدون کیا جاتا رہے۔ کیوں کہ گہرا مطالعہ بتا رہا تھا کہ تغيرات کے ماورا جو انسانی وجود ہے، وہ تبدیلیوں کے باوجود، ایک حالت پر باقی رہتا ہے اور ایک ہی مستقل قانون کے تحت عمل کرتا ہے۔

اب ہم اپنی گفتگو کے آخری حصہ پر آتے ہیں: "کیا کوئی براہ راست قرینہ بھی موجود ہے جو اس دعوے کی صداقت ثابت کرتا ہو کہ انسان کو اپنا قانون خدا کے ابدی سرچشمہ سے اخذ کرنا چاہئے"۔ جواب یہ ہے کہ کم از کم دو ایسے قرینے یقینی طور پر موجود ہیں۔ ایک انسانی فطرت، دوسرے انسانی ساخت کے قوانین کا تجربہ۔ لارڈ ایکٹن نے بجا طور پر کہا تھا:

POWER CORRUPTS AND ABSOLUTE POWER CORRUPTS ABSOLUTELY (اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے)

انسان کے بارے میں ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ جب بھی انسان کو مطلق اختیار حاصل ہوا ہے، اس نے ظلم و فساد پیدا کیا ہے۔ انسان کی ساخت بتاتی ہے کہ وہ کسی برتر اقتدار کے ماتحت رہ کر ہی صحیح کام کر سکتا ہے ۔ لامحدود اختیارات لازماً اس کو بگاڑ کی طرف لے جاتے ہیں۔

یہ بات اس سے پہلے صرف اخلاقی اصطلاحوں میں کہی جاتی تھی۔ مگر اب خود علم الہیات سے اس کا ثبوت ملنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ کے مشہور بیالوجسٹ پروفیسر بی۔ ایف۔ اسکنر اور ان کے ساتھیوں نے اس مسئلہ کا مطالعہ خالص حیاتیاتی سائنس کی روشنی میں کیا ہے اور اپنے نتائج تحقیق کو تازہ مطبوعہ کتاب BEYOND FREEDOM AND DIGNITY میں درج کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان اپنی ساخت کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ آزادی کا تحمّل کر سکے:

WE CAN'T AFFORD FREEDOM

وہ اپنی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ انسان کو لامحدود آزادی نہیں بلکہ پابند نظام (Moral and Culture) چاہئے ۔ یہی اس کی حیاتیاتی فطرت کے زیادہ مطابق ہے۔ حیاتیاتی سائنس کے یہ تجربات قرآن کے اس بیان کی بالواسطہ طور پر تصدیق کر رہے ہیں: يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page