ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰
لوہے کی ایک مشین کے لئے پائیدار اور غیر متبدل قوانین وضع کرتا ہے ، اسی طرح ماہرین قانون انسانی زندگی کے لئے بھی ایک قانونی ڈھانچہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر قانون انسانی کا کوئی متفقہ معیار دریافت کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی ۔ حتی کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم ایسی کتابیں پڑھتے ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے : قانون اپنی تلاش میں علم قانون (JURISPRUDENCE) طویل تلاش کے بعد بالآخر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ خالص علمی طریق پر زندگی کا قانون انسان کے لئے قابل دریافت (Discoverable) نہیں ہے۔ ہماری حیاتیاتی اور ذہنی محدودیتیں (Limitations) ہماری راہ میں فیصلہ کن طور پر حائل ہیں۔ جارج وائٹ کراس پین نے اعتراف کیا ہے کہ قانونی معیارات کا کوئی متفقہ مجموعہ پانے کی صورت عملاً اگر کوئی ہے تو صرف یہ کہ وحی آسمانی کو قانون کا ماخذ مان لیا جائے !
انیسویں صدی میں مغرب میں سماجی قانون کے جتنے فلسفے پیدا ہوئے ، سب کسی نہ کسی طرح اس کے دعوے دار تھے کہ سماجی قانون ، طبیعی قانون کی طرح ، خلقی (A Priori) طور پر سماج کے اندر موجود ہوتا ہے ۔ ہمارا کام صرف اس کو " دریافت " کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سماجی قانون بھی اسی طرح ابدی ہے جس طرح بھاپ اور بجلی کے قوانین ۔ یہ تمام فلسفے سماجی قانون کو دریافت کرنے میں ناکام رہے ۔ تا ہم میں کہوں گا کہ اصولی طور پر ان کا موقف صحیح تھا۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ وہ ایک صحیح چیز کو غلط جگہ تلاش کر رہے تھے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسانی زندگی کا قانون بھی، طبیعیات و حیاتیات کے قوانین کی طرح ، ابدی طور پر مقرر ہے۔ مگر اس قانون کو معلوم کرنے کی جگہ وحی الہی ہے نہ کہ وہ انسانی علوم جن کے متعلق ہم خود دریافت کر چکے ہیں کہ وہ جزوی معلومات کے سوا ہمیں کچھ نہیں دیتے۔
انسانی قانون کو الہی ذریعہ سے قابل اخذ ماننے کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں ، اس کو کائناتی قانون کی سطح پر رکھنا ہے یعنی جس منبع سے ساری کائنات اپنا قانون لے رہی ہے وہیں سے انسان بھی اپنا قانون اخذ کرے ۔ یہ چیز انسانی قانون کو ابدیت کے خانہ میں ڈال دیتی ہے۔ کائناتی قانون کے متعلق معلوم ہے کہ وہ مسلمہ طور پر غیر متغیر ہے۔ پانی جس قانون تجاذب کے تحت دو گیسوں کے ملنے سے وجود میں آتا ہے اور جس قانون حرارت کے تحت اس کے مالیکیول جدا ہو کر بھاپ کی شکل میں اُڑنے لگتے ہیں ۔ وہ ہر مقام اور ہر زمانہ میں یکساں ہیں۔ پھر خدا کے قوانین جب طبیعیات اور حیاتیات کی دنیا میں ابدی ہیں تو انسانی معاشرہ کے لئے اس کے قوانین غیر ابدی کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ ایک ہی ماخذ سے نکلے ہوئے دو قوانین دو الگ الگ نوعیت کے نہیں ہو سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون کو خدا سے ماخوذ ماننا ہی اس کو زمان ومکان کی حد بندیوں سے ماورا ناہبت کر دیتا ہے۔
قانون کا ئنات کی ابدیت اس کے باوجود ہے کہ اس کے اندر بے شمار قسم کے تغیرات ہر آن مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ قدیم زمانہ کا انسان ستاروں کی بابت عقیدہ رکھتا تھا کہ دن کے وقت ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues