Al-Risala · February 1977 · page 43

کُلَّهُ الله -

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳

حتیٰ کہ مبصرین پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ عجیب یں کہ مستقبل میں امریکہ میں بھی ان کے خلاف کوئی "ہٹلر" پیدا ہو جائے۔ یہی صورتِ حال ایک اور شکل میں "زیرِ ترقی ممالک" میں پیش آ رہی ہے۔ یہ ممالک اپنی ترقیاتی اسکیموں کے لئے ترقی یافتہ ممالک سے قرضہ لینے پر مجبور تھے۔ یہ قرضہ، موجودہ اقتصادی نظام کے تحت، انہیں سودی شرائط پر ملا۔ سود کی اقتصادی کرامت کے نتیجہ میں قرضوں کی یہ رقم بڑھتے بڑھتے اب اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ کئی مدیون ملک اپنی سالانہ قسطوں کی ادائیگی کے لئے خود دائن ملکوں سے دوبارہ قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اکثر ملکوں کا یہ حال ہے کہ اگر نہیں یہ سارے قرضے مع سود ادا نہ کرنے پڑیں تو وہ مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائیں۔

۲۔ شریعت اسلامی کا تصورِ سزا اس بنیاد پر قائم ہے کہ انسان ایک با اختیار مخلوق ہے۔ وہ بالقصد اپنے ارادے کے تحت جرم کرتا ہے اس لئے مجرم کو ایسی سزا دینا چاہئے جو دوسروں کے لئے عبرت (نکال) بن سکے۔ لوگ اس کے انجام کو دیکھ کر ڈر جائیں، اور آئندہ جرم کرنے سے باز رہیں راس کے مطابق شریعتِ خداوندی میں قاتل کی سزاقتل مقرر کی گئی۔ مگر اٹھارویں صدی کے آخر میں یورپ میں جرمیَات (Criminology) کا ایک نیا فلسفہ وضع ہوا، اس کے مطابق جرم کوئی ارادی واقعہ نہ تھا، بلکہ اضطراری واقعہ تھا۔ اس کے اسباب حیاتیاتی ساخت، ذہنی بیماری، معاشی تنگی، سماجی حالات وغیرہ میں بتائے گئے۔ کہا گیا کہ مجرم کو مجرم کے بجائے مریض سمجھنا چاہئے ۔ اور سزا دینے کے بجائے اس کے "علاج" کا انتظام کرنا چاہئے ۔

اس نظریہ نے جدید دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ اکثر ملکوں میں جیل خانوں کے بجائے اصلاح خانے بنائے گئے اور اخلاقی جرائم کی حد تک سنگین سزاؤں کو ختم کر دیا گیا۔ اگر چہ اس کے بعد بھی ہر ملک میں دفاعی اہمیت کے جرائم کے لئے سنگین سزائیں بدستور جاری رہیں اور یہ واقعہ اس نظریہ کے علم برداروں کی بے یقینی ثابت کرنے کے لئے کافی تھا۔ تاہم انسانی فطرت کے بارے میں بعد کی تحقیقات اور عملی تجربوں نے مزید اس نظریہ کی غلطی واضح کر دی ہے۔ خوش حال اور "صحت مند" معاشروں میں لوگوں کے اندر جرائم کا رجحان اس سے بھی زیادہ پایا گیا جو نسبتا غریب اور غیر صحت مند معاشروں میں نظر آتا ہے۔ "معالجاتى" "تدبیریں جرائم کو روکنے میں تکام ثابت ہوئیں ۔ جن ملکوں میں سزاؤں میں تخفیف کے اصول کوجاری کیا گیا، وہاں اس کے بعد جرائم کی رفتار بہت بڑھ گئی ۔ کئی ملکوں مثلاً سری لنکا اور ڈیلاویر (Delaware) میں سزائے موت کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ اس کو بحال کرنا پڑا چنانچہ ماہرینِ قانون اب اپنے سابقہ نظریہ پر نظر ثانی کے لئے مجبور ہو رہے ہیں۔ ایک ماہر قانون نے کہا ہے: "لوگوں میں یہ عام تاثر ہونا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنا ملزم کو موت کی سزا کا مستحق بناتا ہے اپنے اندر بہت بڑی مانع قدر (Dettorent Value) رکھتا ہے۔

اس کے برعکس شرعی قانون کی افادیت کا زندہ ثبوت وہ ممالک ہیں جہاں آج بھی شرعی سزا نافذ ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب۔ یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ یہاں ، مہذب ممالک کے مقابلہ میں جرائم کی تعداد انتہائی حد ناک کم ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page