کُلَّهُ الله -
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
۳۔ اسی طرح ایک مثال عورت مرد کے درمیان تعلقات کا مسئلہ ہے۔ اسلامی شریعت کے نزدیک مرد اور عورت ایک دوسرے کا تکملہ (Contents) ہیں۔ بعضکم من بعض (آل عمران) اس کے برعکس جدید تہذیب کا دعویٰ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا ثانی (Defeated) ہیں۔ شرعی نقطہ نظر کا تقاضا ہے کہ دونوں صنفوں کا دائرہ کار الگ الگ ہو۔ چنانچہ شریعت اسلامی میں مقرر کیا گیا کہ، اصولی طور پر، عورت کا دائرہ کار اور مرد کا دائرہ کار باہر ہوگا۔ جب کہ مغربی فکر کا تقاضا تھا کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی میدانِ عمل میں سرگرم ہوں۔ دونوں میں کسی قسم کی کوئی تفریق و تقسیم نہ رکھی جائے ۔
مغربی ملکوں میں انیسویں صدی میں مساواتِ مرد و زن کے اصول کو رائج کیا گیا۔ مگر سو برس تک عمل ہونے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا کہ عورت کسی بھی شعبہ میں مرد کی جگہ لے سکتی۔ اس تجرباتی ناکامی نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ مسئلہ کا از سرِ نو جائزہ لیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں، اس مسئلہ پر مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ میں غیر معمولی تحقیقات ہوئی ہیں۔ یہ تحقیقات حیرت انگیز طور پر شرعی نقطہ نظر کی تصدیق کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ اب قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ نہ صرف دونوں کی نفسیات الگ الگ ہیں۔ بلکہ دونوں کے درمیان فیصلہ کن قسم کے حیاتیاتی فروق (Biological differences) پائے جاتے ہیں۔ اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی کام کے لئے موزوں نہیں۔
پھر دونوں نظریات کی بنیاد پر جو خاندانی اور معاشرتی زندگی بنتی ہے، وہ بھی اب مکمل طور پر سامنے آ چکی ہے۔ مرد و عورت کے بارے میں شرعی اصول پر زمین کے ایک بڑے رقبہ میں تیرہ صدیوں تک عمل ہوتا رہا۔ مگر زندگی کے نظام میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہوئی۔ جب کہ مغربی زندگی میں "مساوات" کے جدید اصول کے انطباق نے پورے معاشرہ کو بگاڑ دیا ہے اور خاندانی زندگی بالکل منتشر ہو کر رہ گئی ہے۔ عورت کو گھر کے باہر کے امور سپرد کرنے کے نتیجہ میں مغرب میں جو بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کی تفصیل پیش کرنے کا موقع نہیں۔ یہاں میں اس کے صرف دو پہلوؤں کا ذکر کروں گا۔ ایک، بچوں کا اپنے سر پرستوں کی تربیت سے محروم ہونے کا مسئلہ۔ مغربی سماج میں یہ صورت عام ہے کہ باپ اور ماں دونوں کے بیرونی کام پر چلے جانے کی وجہ سے بچوں کو اپنے فطری مربیوں کے درمیان رہنے کا موقع نہیں ملتا۔ مزید یہ کہ عورت مرد کے آزادانہ اختلاط کے نتیجہ میں بار بار نئی صنفی دلچسپیاں وجود میں آتی ہیں اور طلاقوں کی کثرت سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو اجڑے گھروں (Broken families) کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح جو بچے اپنے سر پرستوں سے محروم ہو کر پرورش پاتے ہیں ان کی شخصیت کا فطری ارتقاء نہیں ہو پاتا۔ چنانچہ بچوں میں کثرت سے ایک نئی قسم کی نفسیاتی بیماری پیدا ہو رہی ہے جس کو امریکی ڈاکٹروں نے آٹزم (Autism) کا نام دیا ہے۔ جسمانی طور پر بظاہر تندرست بچے ذہنی اعتبار سے عجیب و غریب قسم کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ مثلاً وحشت زدگی، ساتھیوں سے لڑنا۔ اسکول کا کام نہ کرنا۔ تشدد پسندی وغیرہ ۔ ان کے علاج کی ہر تدبیر اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔
(ترجمان القرآن، فروری ۱۹۹۷ء)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues