کُلَّهُ الله -
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶
فقہ، ایک معنی میں شریعت کے بنیادی قانون کی زمانی تعبیرات کا نام ہے۔ بنیادی انسانی قانون بلاشبہ ناقابل تغیر ہے۔ مگر زندگی کے نقشوں میں تبدیلی کی وجہ سے بار بار اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بدلے ہوئے نقشہ میں اسلام کے ابدی قانون کو منطبق کیا جائے۔ فقہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وجود میں آتی ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ میں جب اسلام کو وسعت حاصل ہوئی اور زندگی کے نقشے بدل گئے تو قاضی ابو یوسف (۹۸ھ - ۳۱ھ) سامنے آئے اور انہوں نے وقت کی عظیم ترین سلطنت کے تمام امور پر اسلامی قوانین کو منطبق کر کے دکھا دیا کہ اسلام کس طرح اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے کہ ہر دور کی ضرورتیں پوری کر سکے۔
تاہم فقہ میں، اساسی شریعت کے برعکس زمانی عنصر پایا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر فتاوی قاضی خان میں ایک جزئیہ ہے کہ کوئی شخص قسم کھا لے کہ میں ہوا میں اڑوں گا اور اڑ نہ سکے تو اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کیونکہ ہوا میں اڑنا انسان کے لئے ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ موجودہ زمانہ کا فقیہ اس قسم کا فتوی نہیں دے گا۔ فقہ کو ہر زمانہ کے حالات سے موافق بنانے کے اسی عمل کا نام اجتہاد ہے۔ شریعت اجتہاد کے ذریعہ ثابت کرتی ہے کہ وہ کس طرح دائمی طور پر قابل عمل ہے۔ فقہی اجتہاد اگرچہ اساسی طور پر شریعت کا پابند ہے۔ مگر وہ کسی سابق فقہ کا پابند نہیں۔ کیوں کہ فقہ صرف اجتہاد اسلامی کار یکارڈ ہے وہ بجائے خود شریعت نہیں۔
قانون کا تیسرا حصہ وہ ہے جس کے لئے میں نے ”تمدنی ضوابط“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت نے ہمیں کسی قانون کا پابند نہیں کیا ہے۔ بلکہ تمدنی ضرورتوں کے مطابق انسانی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قسم کی ضابطہ بندی کی آزادی دی ہے۔ سورہ سبا کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالی نے اپنے ان بندوں کا ذکر کیا ہے جن کو بڑی بڑی مادی ترقیاں دی گئی تھیں، معدنیات کو تصرف میں لانے کافن ، ہوائی سفر کی قدرت، بعید مقامات تک خبر رسانی کی صلاحیت، فن تعمیر، انجینیرنگ زراعت، شہری پلاننگ وغیرہ میں ان کو غیر معمولی مقام حاصل تھا۔ مگر اس سلسلے میں کوئی ”صنعتی شریعت“ یا ”ٹیکنیکل فقہ“ ان کو نہیں دی گئی۔ صرف یہ حکم دیا گیا کہ خدا کے شکر گزار رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمدنی امور میں ضوابط مقرر کرنے کا معاملہ شریعت سے متعلق نہیں ہے یہ کام آدمی کو خود اپنے علوم (سائنس) کے ذریعہ انجام دینا ہے۔ البتہ اس کے اس عمل میں خدا کی شکر گزاری کی روح جاری و ساری رہنا چاہئے جو خود اس بات بھی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ اس کی قانون سازی ظلم اور فساد کے اجزاء سے پاک رہے گی اس مقالہ کا عربی ترجمہ (وجوب تطبيق الشريعة في كل زمان ومكان) الرياض کی اسلامی فقہ کانفرنس میں ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ظفر الاسلام خاں نے نیا نہ پڑھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues