کُلَّهُ الله -
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵
دوسرا مسئلہ بڑوں سے متعلق ہے۔ بچے اپنے سرپرستوں سے محروم ہورہے ہیں۔ بڑے اپنے عزیزوں اور مخلصوں سے۔ فرانس کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں انسانوں کی ۵۲ ملین آبادی میں سات ملین کتے ہیں۔ یہ کتے اپنے مالکوں کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں جیسے وہ ان کے قریبی عزیز ہوں۔ پیرس کے نہایت مہنگے ہوٹلوں میں یہ منظر اب عجیب نہیں رہا کہ ایک مرد یا عورت اپنے کتے کے ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھارہے ہیں۔ " فرانسیسی لوگ اپنے کتوں سے کیوں اپنوں جیسا معاملہ کرتے ہیں؟ " جمعیۃ رعایۃ الحیوان (پیرس) کے ایک مسئول سے جب یہ پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا: "وہ چاہتے ہیں کہ محبت کریں۔ مگر وہ انسانوں میں ایسے لوگ نہیں پاتے جن سے وہ محبت کر سکیں"۔ عورت مرد کے درمیان فطری توازن توڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارے انسان منتشر ہوگئے ۔ ماں باپ، بھائی بہن ، بیوی بچے، یہ سب انسان کی فطری ضرورتیں ہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ اپنے لئے اس قسم کے افراد نہیں پاسکتے تو انھوں نے کتے سے محبت شروع کر دی۔ کیونکہ کتے میں کم از کم اتنی خصوصیت یقینی ہے کہ وہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا، کبھی بے وفائی نہیں کرتا۔
انسانی تجربات انسان کو سچائی کے دروازے تک پہنچا چکے ہیں۔ اب حاملین قرآن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اٹھیں اور سچائی کے بند دروازہ کو کھول دیں، تاکہ انسانی قافلہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں داخل ہو جائے جہاں ان کا رب ان کا انتظار کر رہا ہے۔
آخر میں ایک شبہ کا جواب دے کر اس گفتگو کو ختم کروں گا۔
طرابلس کے ندوۃ الحوار الاسلامی۔ المسيحی (فروری ۱۹۷۶) میں مسیحی موقف یہ تھا کہ دین صرف روحانی اقدار کا مجموعہ ہے۔ مسلم موقف یہ تھا کہ دین ایک مکمل نظام ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مسیحی نمائندہ (ڈاکٹر شوٹویل) نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جدید زندگی کے بہت سے مسائل ہیں جن کے بارے میں دینی کتابوں میں قوانین نہیں ملتے۔ مثال کے طور پر سٹی پلاننگ۔ ایسی حالت میں دین کو مکمل نظام کے طور پر کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے شبہات اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ قانون کے مختلف حصوں کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ چنانچہ خلط مبحث کی وجہ سے معاملہ کی پوری نوعیت واضح نہیں ہوتی۔ اسلامی نقطہ نظر سے قانون حیات کے تین مختلف حصے ہیں:
۱۔ شریعت ۲۔ فقہ ۳۔ تمدنی ضوابط دین میں اساسی قانون کا جو حصہ ہے، اس کو شریعت کہتے ہیں۔ قرآن اور سنت ثابتہ اس شریعت کا ماخذ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے زندگی کے وہ بنیادی قوانین بتا دیئے ہیں جن پر انسانی زندگی کا نظام صحیح طور پر قائم ہو سکتا ہے۔ یہ قوانین اسی طرح غیر تبدیل ہیں جس طرح طبیعیات اور حیاتیات کے قوانین غیر تبدیل ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues