Al-Risala · February 1977 · page 48

مطالعۂ کتب

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸

ایل ایس بی کیلیے ترجمہ : ابن حنیف قدیم انسان کی تنداش "وہ مجھے مل گیا۔ مجھے مل گیا ۔ "

" خیریت ! کیا مل گیا ہے تمھیں ؟ " میں نے پائی گئیں ۔ مارے خوشی کے ہماری چیخیں نکل گئیں۔ بالآخر ہماری تمام ترامیدیں، مشقتیں اور قربانیاں بار آور ہو گئی تھیں اور ہم نے اپنی دریافت کو کھودنا شروع کر دیا۔

چیزوں کی تلاش میں ہمارا طریقہ کار بڑا سیدھا سادہ ہے مگر ساتھ ہی بہت تکلیف دہ بھی۔ طریقہ یہ ہے کہ ہمیں گھاٹی کی ڈھلوانوں پر کبھی اوپر کی طرف اور کبھی نیچے کی جانب پیٹ کے بل رینگنا پڑتا ہے اس حال میں کہ ہماری آنکھیں زمین سے بمشکل چند انچ کے فاصلے پر ہوتی ہیں جہاں کہیں اپنی بیوی سے پوچھا۔

"وہ ! وہ آدمی ! ہمارا آدمی ۔ وہ جسے ہم تلاش کر رہے تھے۔ جلدی آؤ، میں نے اس کو ڈھونڈ کوئی ننھا سا منجمد استخوانی ٹکڑا بھی نظر آجائے فوراً رک جاتے ہیں اور کسی عمدہ برش یا دانتوں کے خلال سے بہت احتیاط کے ساتھ اس کی تفتیش لیا ہے۔ میری نے جواب دیا۔

اس روز میں سر درد کی وجہ سے باہر نہ جا سکتا تھا اور صبح سے ہی کیمپ میں پڑا تھا لیکن اب میرا درد گویا جادو کے زور سے غائب ہو چکا تھا اور پھر ہم گاڑی میں بیٹھے کوہستانی گھاٹی کے تنگ راستے سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ذرا دیر بعد ہم پتھروں کے ایک ڈھیر کے پاس گھٹنوں کے بل جھکے میری کا خزانہ دیکھنے لگے۔

دانت ایک چٹان سے باہر کو نکلا ہوا تھا۔ ہمارے خیال میں ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی رٹ سے وہ جستجو ختم ہونے کو تھی جس میں ہم نے ۲۸ برس بتا دیے تھے۔ ٹانگانی کا کی دور دراز گھاٹی اولڈ سوانی اس انسان کی باقیات سمیٹے ہوئی تھی جو اب تک سب سے قدیم تھے اور پیشتر ازیں اس کی ہڈیاں کبھی نہیں کرتے ہیں اور یہ سب کچھ گرمی میں کرنا پڑتا ہے بعض اوقات گرمی ایک سو دس درجے فارن ہیٹ تک پہنچ جاتی ہے۔

ہم ٹھان چکے تھے کہ اس کاسہ سر کا کوئی بھی اہم ٹکڑا ضائع نہ جانے دیں گے چنانچہ کئی ٹن سنگریزے اور مٹی چھان ڈالی اور انیس دن کی کاوشوں کے بعد قریباً پوری کھوپڑی ہاتھ آ گئی۔ نچلا جبڑا البتہ نہ پایا جا سکا اس نرم چٹان کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل کی وجہ سے یہ نئی دریافت شدہ کھوپڑی چار سو ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ۔ ڈاڑھوں اور انیاب کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ کھوپڑی جس انسان کی تھی وہ اٹھارہ سال کی عمر کا رہا ہوگا میں نے اسے زنجنتھروپس یا مشرقی افریقہ کا آدمی کا نام دیا ہے اس کے سپاٹ یا چٹے کاسہ سر میں جو دماغ تھا وہ موجودہ انسانی مغز سے غالباً آدھا

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page