Al-Risala · February 1977 · page 49

میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹

..... چٹان میں دبی ہوئی ایک کھوپڑی ملتی هے۔ پتھروں سے کاٹ کر نکالنے میں اس کے ریزے ریزے ھو جاتے ہیں کئی ٹن سنگریزے اور مٹی کو چھاننے کے بعد جب کھوپڑی کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ھو جاتی ھے تو معلوم ھوتا ھے کہ تلاش کرنے والوں کو کھوپڑی کا صرف ایک حصہ ملا ھے اور وہ بھی چار سو ٹکڑوں کی شکل میں۔

اسی قسم کی وہ دریافتیں" ھیں جن سے علماء ارتقاء کے نزدیک یہ ثابت ھو گیا ھے کہ کروڑوں برس پہلے کچھ انسان نما حیوان بستے تھے جو موجودہ انسان کی ابتدائی کڑی تھے!

تھا، علاوہ ازیں کھوپڑی کے بالکل سامنے کٹاؤ دار سے ادزار گھڑ لینے کی صلاحیت بھی، اور آلات ایک استخوانی ابھار ہے جو دائیں سے بائیں کو چلا گیا ہے بنانے کی اہلیت ہی ایک ایسا نکتہ ہے جو اس بات اس قسم کا ابھار بعض انسان نما مخلوق میں پایا گیا ہے۔ سے قطعی جداگانہ ہے کہ صرف نوکدار لکڑیوں یا تیز موجودہ نسل انسانی ارتقاء کی جس منزل کو پہنچ چکی ہے کوئی نوکیلے پتھروں سے کام نکال لیا جائے جو قدرتی طور کوئی شبہ نہیں کہ زنجنتھروپس اس سے کافی پیچھے تھا لیکن میں پر بنے بنائے دستیاب ہو سکتے تھے جس جگہ قدیم نے اس بیسں کم از کم میں خصوصیات ایسی دیکھی ہیں جن زنجن تھروپس اپنے کھدے گھر بنا کر رہتا تھا وہاں سے کی وجہ سے وہ جنوبی افریقہ میں دریافت شدہ انسان نما ہمیں اوزار بھی ملے اور یہ اوزار اس کھوپڑی کی مخلوق کی نسبت موجودہ انسان سے کہیں زیادہ مشابہت دستیابی سے کئی سال قبل ہمارے ہاتھ لگے تھے۔ ان رکھتا ہے۔

میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں

انسان سے حقیقی مراد ہے کیا ؟ میرے نزدیک کاٹنے کے بد وضع سنگی آلات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انسان محض وہ قدیم بو ز نہ نما مخلوق نہیں ہے جو سیدھی قبر نما ایسے پتھر بھی ہیں جن سے ہڈیاں توڑ کر گودا ہو کر چلتی تھی اور جس کے ہاتھ بھی تھے بلکہ صحیح معنوں میں نکالا جاتا تھا صاف ظاہر ہے کہ زنجنتھر ویس اپنے انسان ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ سوجھ بوجھ اور اوزار تراشنا جانتا تھا۔ آج تک جتنی بھی قدیم عقل بھی رکھتا ہو اور اپنے استعمال کے لئے بھدے انسانی کھوپڑیاں پائی گئی ہیں۔ زنجن تھر ویس کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page