Al-Risala · March 1977 · page

اداریہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷

اداریہ

قدیم زمانہ میں کسی بات کو دل چسپ بنانے کے دو طریقے تھے: موزوں کلام، اور تمثیلی پیرایہ بیان۔ دونوں طریقوں میں دل کشی کا عنصر بلاشبہ کافی تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ خرابی بھی تھی کہ ان سے حقیقت پسندانہ ذہن نہیں بنتا۔ شعراور حکایت دونوں ہی ایک حقیقی بات کو غیر حقیقی زبان میں بیان کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ بالکل فطری ہے کہ اس قسم کی چیزیں پڑھنے والے کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج پرورش نہ پاسکے۔ جدید صحافت اس ضرورت کو کسی کمی کے بغیر پورا کرتی ہے۔ جدید صحافت میں حقیقت نگاری کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بات کو ایسا دل کش بنا دیا جاتا ہے کہ پڑھنے والا کسی قسم کی خیال آرائی میں پڑے بغیر پوری تحریر کو دل چسپی کے ساتھ پڑھتا چلا جائے ۔

بدقسمتی سے مسلم صحافت ابھی اس صحافتی دور میں داخل نہیں ہوئی۔ جدید عربی صحافت نے خطاطی اور تزئین میں کافی ترقی کی ہے۔ مگر جہاں تک معنوی پہلو کا تعلق ہے وہ ابھی تک جدید صحافت کے معیار کو نہیں پہنچی۔ الرساله مسلم صحافت کے اس خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ الرسالہ کو ہم تفریحی یا تجارتی صحافت تو نہیں بنا سکتے تاہم مقصدیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہم اس کو مکمل طور پر جدید صحافت کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد ہے: جدید دنیا کے واقعات و حقائق کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ اور اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے فرائض کو عصری اسلوب میں بیان کرنا۔ مختلف حلقوں نے جس طرح الرسالہ کی تحسین کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے۔

اس سلسلہ میں ہم اپنے قارئین کو یہ خوش خبری سنانا چاہتے ہیں کہ الرسالہ کے معنوی حسن کے ساتھ اس میں ظاہری حسن کا سامان بھی اعلیٰ شکل میں فراہم ہو گیا ہے۔ الرسالہ کی کتابت اور طباعت کے لئے الحمد للہ پہلے ہی سے عمدہ انتظام تھا۔ اب ایک ممتاز خطاط اور آرٹسٹ (جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے) نے یہ ذمہ داری قبول کرلی ہے کہ وہ مضامین کی سرخیاں لکھیں گے اور صفحات کی تزئین کریں گے۔ اسکے بعد انشاء اللہ الرسالہ معنوی اور ظاہری دونوں اعتبار سے جدید مسلم صحافت کا معیاری نمونہ بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page