Al-Risala · March 1977 · page

اداریہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷

فَأَمَّا مَنْ طَغَى وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى سوچ جس نے سرکشی کی اور دنیوی زندگی کو اختیار کیا، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا، اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ النازعات غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا رخ دنیا کی طرف ہو جائے ۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دلچسپی ہو، وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو ۔ وہ انھیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں، جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو، جس میں اس کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہو۔

اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) ہوتی ہے۔ مومن کی دلچسپیوں کا مرکز آخرت ہوتا ہے ۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں اپنی امیج بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت میں ۔ غیر مومن مرنے کے بعد اپنی آخرت کو دیکھے گا اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page