Al-Risala · March 1977 · page 12

خدا کی مدد اس طرح بھی آتی ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲

خدا کی مدد اس طرح بھی آتی ہے

تاریخ کی کتابوں کی یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں ایک بار جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ اچانک ان کی زبان سے نکلا : یا ساریۃ الجبل (اے ساریہ پہاڑ کی طرف) ساریہ ایک فوجی سردار تھے اور ان کی سرکردگی میں مسلح افواج ایران کے کسی مقام پر لڑ رہی تھیں۔ اس جنگ کے دوران ایک موقع ایسا آیا کہ دشمن کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اندیشہ پیدا ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کو گھیرے میں لے کر ان کا خاتمہ کر دیں گے۔ اس وقت بہترین فوجی حکمت عملی یہ تھی کہ پیچھے ہٹ کر پہاڑ کی اوٹ لے لی جائے تاکہ دشمن کے مقابلہ کا مسئلہ صرف ایک طرف سے رہے۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ صاحب معاملہ اپنے مخصوص حالات میں گھرا ہونے کی وجہ سے یہ الگ طور پر سوچ نہیں پاتا۔ اور یہ بات اس سے اوجھل رہ جاتی ہے کہ اس ہنگامی موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔ اس وقت اللہ کی مدد خارج سے ہوتی ہے۔ یہی صورت مذکورہ بالا معاملہ میں پیش آئی۔ اللہ نے حضرت عمر فاروق کو بعد میں وہ بات سمجھا دی جو حضرت ساریہ سے ایران میں اوجھل ہو رہی تھی۔ اسلامی فوج کا قاصد مدینہ کو جب جنگ کی خبر لے کر آیا تو اس نے بتایا: اے امیر المومنین، ہم شکست کھانے کے قریب تھے کہ ہم نے فضا سے آواز سنی یا ساریۃ الجبیل اس آواز سے ہم ہوشیار ہو گئے۔ ہم نے اپنے لشکر کی پیٹھ پہاڑ کے قریب کر دی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی اور ہم کو فتح یاب کیا۔

اس طرح کے اور واقعات بھی تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثلاً اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک (متوفی ۱۲۵ھ) کے زمانے میں افریقہ میں بربری قبائل سے مقابلہ میں اسلامی فوج کو شکست ہوئی۔ اس فوج میں زیادہ تر شام کے لوگ تھے اور فوج کی تعداد کم تھی۔ ہشام کو خبر پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ اگر میں زندہ رہا تو اہل بربر پر ایک لاکھ آدمیوں کا لشکر بھیجوں گا اور یہ سب میرے تنخواہ دار فوجی ہوں گے ۔ اس کے بعد پھر ایک لاکھ بھیجوں گا، اور برابر بھیجتا رہوں گا یہاں تک کہ میرے اور میرے بیٹوں اور پوتوں کے سوا کوئی باقی نہ رہے۔ پھر ان میں بھی قرعہ ڈالوں گا۔ اور اگر میرے نام پر قرعہ نکلا تو میں خود لڑنے کے لئے نکلوں گا۔ اس کے بعد ہشام نے بشر بن صفوان گورنر افریقہ کے بھائی حنظلہ بن صفوان کلبی کو پچاس ہزار فوج دے کر روانہ کیا۔

اس جنگ کے دوران خلیفہ ہشام بیمار پڑ گیا۔ مگر اس کا دل برابر میدان مقابلہ کی طرف لگا ہوا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن شدت مرض میں اس کی زبان سے نکلا : " حنظلہ ! میسرہ کے دونوں لشکروں میں سے پہلے ایک سے جنگ کرو۔ پاس بیٹھے ہوئے لوگ سمجھے کہ خلیفہ ہذیان کی حالت میں بڑبڑا رہا ہے۔ مگر دمشق کی آواز حنظلہ کو افریقہ میں پہنچ گئی۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پہلے اس لشکر سے نمٹے جو مقام قرن میں تھا۔ ایک لشکر کو ختم کرنے کے بعد دوسرے لشکر پر حملہ کیا جو مقام اصنام میں تھا اور فتح پائی۔ دو لشکروں کو اس طرح الگ الگ شکست دینے کا یہ واقعہ۱۲۴ھ کا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page