Al-Risala · March 1977 · page 16

لطیفہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

فریدہ خانم ایم ۔ اے سیاست کے لئے جوش تعمیر کے لئے سرد مہری فاطمه بیگم ( ۱۹۵۸ - ۱۸۹۰ ) مولوی محبوب عالم ایڈیٹر پیسه اخبار لاہور کی صاحبزادی تھیں ۔ ان کی شادی راجہ عبدالعزیز صاحب ضلع ہزارہ سے ۱۹۲۱ مگر یہی جوش تعمیری اور اصلاحی کاموں کے لئے نہیں ملتا ۔ نہ ماضی میں نہ حال میں ۔ اور اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ دور میں زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

دیہات میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض خاندانوں کا حال یہ رہتا ہے کہ لڑائی جھگڑائی کے نام پر ان کے افراد بہت جلد گرم ہوجاتے ہیں۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اپنے کھیتوں اور باغوں میں محنت کرنے اور اپنے مکانات کو درست کرنے کے لئے ان کے اندر کوئی جوش نہیں پیدا ہوتا۔ ایسے خاندان ہمیشہ ناکام اور سرماہ رہتے ہیں۔ اس کے میں ہوئی۔ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے جب ۱۹۴۱ میں اعلان کیا کہ وہ چھٹیوں کے لئے سیاسی تعلیم کا مدرسہ (سمرا سکول آف پالی ٹکس جاری کرنا چاہتے ہیں تو برعکس بعض دوسرے خاندان ہوتے ہیں جو لڑائی جھگڑے کے موقع پر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کے گھر والوں کو سارا شوق یہ رہتا ہے کہ خوب تعلیم حاصل فاطمہ بیگم نے اس اسکول کے لئے لاہور میں اپنی ذاتی جائیداد سے قیمتی زمین عطیہ کے طور پر دے دی اور روضیہ پر فوری عمل درآمد کے لئے اپنے ہائی اسکول میں کچھ کمروں کا بندوبست کر دیا۔ جو کہ انھوں نے لاہور میں لڑکیوں کے لئے کھولا تھا۔ انھیں گوارا نہ ہوا کہ باضابطہ عمارت بننے تک نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا کام ملتوی رہے۔

کریں کھیتوں اور باغوں کو ترقی دیں، عمدہ مکان بنائیں۔ بچوں کو اخلاق اور تہذیب سے آراستہ کریں۔ ایسے لوگ ہمیشہ محفوظ اور مطمئن رہتے ہیں۔ کوئی آندھی ان کے درخت کو نہیں اکھاڑتی اور کوئی سیلاب ان کی دیواروں کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

دیہاتی کسانوں کی اسی مثال پر قوموں کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جو قومیں تعمیری اور اصلاحی حیثیت سے خود کو مضبوط اور مستحکم بناتی ہیں، ان کی زندگی کا یہ حبیبہ مارین کا ایک سبنا چھوتا سا واقعہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی کاموں کے لئے لوگوں کے اندر رکھنا جوش و خروش تھا۔ مرد تو مرد عورتوں تک میں سیاست کے نام پر جوش و خروش پیدا ہو جاتا تھا۔ سیاست کے لئے وہ کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار ہو جاتی تھیں ۔

کے اپنے اور زور اور علم جاتی ہیں ، ان کی رندی کے تمام شعبے درست رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو قومیں جلسہ بازی اور سیاست بازی میں اپنی قوتیں صرف کرتی ہیں ان کو نہ اقتصادی اور سیاسی استحکام حاصل ہوتا اور نہ وہ چیز جس کو سیاست کے نام سے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page