شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
شیخ حسن البناء اور فلسطین
۱۹۴۷ء کی بات ہے ہم لوگ جامعہ ازہر میں رہتے تھے۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کر دیا اور یہودیوں کی حکومت تسلیم کر لی۔ اور اقوام متحدہ کا ممبر بھی نامزد کر دیا۔ اس غلط تقسیم، ناروا اعلان، سراسر ظلم و عدوان اور صریح زیادتی کے خلاف ہر شخص نے آواز اٹھائی۔ لیکن کسی سے عملی اقدام کی جرات نہ ہو سکی۔
مصر نے تمام سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو اکٹھا کر کے فلسطین کی آزادی کے لیے ایک کانفرنس بنائی۔ عرب لیگ صرف اجلاس ہی بلاتی رہ گئی۔ دمشق، قاہرہ، بغداد، بیروت اور عمان کی مسلم جماعتوں نے مظاہرے اور اس غلط تقسیم کے خلاف زبانی احتجاج کہیں کہیں اور خاموش ہو گئے۔ مختلف گروہوں کے لیڈر اور جماعتوں کے پیشوا ازہر آئے۔ یکے بعد دیگرے تقریریں کیں۔ سامعین ان کے مشتعل جذبات کی آتش بیانی سنتے رہے اور بس۔
شیخ حسن البناء ممبر پر آئے۔ آپ نے بھی تقریر کی۔ لیکن ایسی فیصلہ کن کہ آپ کے بولنے کے بعد کسی میں جرات نہ ہو سکی شیخ حسن البناء کے حلق سے جو آواز نکل رہی تھی وہ عوام کے غم و غصے کی جھوٹی تسلی کے لیے نہیں تھی۔ گرج میں عمل کی پکار تھی اس للکار میں خون کی پیش کش تھی شیخ حسن البناء جب ممبر پر تشریف لائے تو سامعین نے تالیوں اور نعروں سے آسمان کو سر پر اٹھا لیا۔ شیخ نے اپنی بارعب اور پر وقار آواز میں تقریر شروع کی ۔ فرمایا یہ یہودی خبیث اور ذلیل قوم جو ہماری چھاتیوں کا ناسور ہے ہمارے ہی ملک میں ہماری زندگی تلخ کئے ہوئے ہے۔ ہمارے ایمان و معتقدات میں خلل انداز ہو رہی ہے۔ اُن کو یہ جرات اس لئے ہو رہی ہے کہ یہ بڑی طاقتیں جو اللہ کا انکار کرتی ہیں اور عدل و انصاف سے گریز کرتی ہیں۔ ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ شیخ نے اپنی آواز اونچی کر کے فرمایا اے بندگان مصر! کل ہی کی بات تو ہے کہ ہیضہ کی وبا میں مصر کے چالیس ہزار افراد نے دست و قے میں غرق ہو کر جان دیدی اور تم نے اسے برداشت کر لیا۔ کیا تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے چالیس ہزار آدمی ہمارے محبوب فلسطین کی آزادی کی خاطر خاک وخون میں لوٹ کر رتبہ شہادت حاصل کریں ۔
اختتام تقریر پر شیخ نے فرمایا کہ جہاد کے لیے اخوانی نوجوانوں کی جماعت بالکل پا بہ رکاب ہے۔ مصری حکومت اگر چا ہے تو وہ بھی اپنے لشکر و سپاہ کو اخوانی مجاہدین کے ساتھ بھیج دیں تاکہ سب مل کر یلغار کر سکیں۔
اسی روز ازہر سے ایک شاندار جلوس مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا۔ شاید قاہرہ نے ایسا مظاہرہ پہلی بار دیکھا ہوگا۔ اخوانی جوانوں کی ایک کثیر جماعت منظم طریقے پر پوری فوجی تنظیم کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے نکلی اور فلک شگاف نعرے لگاتی جارہی تھی " لبیک یا فلسطین " (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) اخوانی جلوس کا تزک واحتشام اور جاہ و جلال حکومت مصر کو ناگوار گزرا۔ پولیس مظاہرین کے در پے ہوئی ۔ اور انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ شیخ کے ہاتھ میں چوٹ آگئی۔ پھر بھی شیخ نے فیصلہ کن انداز میں اعلان کر دیا کہ جلوس " قصر عابدین " تک پہنچنے کے بعد ہی خاموش ہو گا۔ چنانچہ قصر عابدین کے آگے پہنچ کر مجمع منتشر ہو گیا۔ یہ جلوس شاہ فاروق کو حق صداقت، غلبہ وقوت اور استقلال وآزادی کی آواز سنا چکا تھا۔ اخوانی مجاہدین کا لشکر فلسطین پہنچا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues