شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵
جوانمردی ثابت قدمی کے ساتھ یہودیوں کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ فلسطین کی مقدس سرزمین شہیدوں کے خون سے لالہ زار ہوتی جارہی تھی۔ حسن البنا نے ازھر میں جو وعدہ تھا۔ وہ وعدہ وفا ہو رہا تھا۔ شیخ کا مقصد نہ عوام کو خوش کرنا تھا اور نہ کسی کی داد یا تعریف حاصل کرنا بلکہ آپ نے جو کچھ کیا وہ رضائے الہی کی خاطر تھا۔ اخوان کے اس اقدام کا یہ نتیجہ ہوا کہ اخوانیوں کی قوت و عظمت ہمت و طاقت اور عزم واستقلال کا اندازہ کر کے مصری حکومت خوفزدہ ہوگئی اور خود اسے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ حکومتِ مصر بھی اخوان دشمنی میں یہودیوں، انگریزوں فرانسیسیوں اور امریکیوں کی ہم نوا بن گئی۔ اور برطانوی درندوں کے اشاروں پر اخوانی جماعت کو غیر قانونی قرار دیکر گرفتاری کا عام حکم صادر کر دیا گیا۔ مصری پولیس پوری طرح حرکت میں آگئی، دھڑا دھڑ اخوانیوں کو گرفتار کرنے لگی۔ فلسطین کے میدان جہاد سے اخوانی مجاہدین واپس لائے گئے اور مصری قید خانے کی تنگ تاریک کوٹھریوں میں نظر بند کر دئے گئے۔ حکومتِ مصر نے اس دوران عوام کی آزادی سلب کر لی۔ لوح و قلم کی متاع چھین لی اور افکار پہرے لگا دئے۔ رعایا کو دہشت وخوف میں مبتلا کر دیا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس وقت شیخ حسن البنا بالکل آزاد تھے۔ مجھے یاد ہے کہ شیخ کی شہادت سے چند دن قبل ہم لوگ دفتر اخوان میں بیٹھے تھے۔ شیخ نے فرمایا کہ پتہ نہیں حکومت میرے خلاف سازش کا کیا کیا اور کیسا جال پھیلارہی ہے کہ اب تک مجھے گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔ اور چند دن قبل تک میری نقل و حرکت پر جاسوسوں کی جو نگرانی تھی وہ بھی اٹھالی گئی۔ معلوم نہیں ان کارروائیوں کا مقصد کیا ہے۔ پھر ایک سرد آہ بھر کر خود ہی فرمایا۔ چھوڑئے ان سب باتوں کو اللہ کا فیصلہ غالب ہو کر رہے گا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ قل لن يصيبنا الا ما كتب اللہ لنا یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک مصری وزیر مصطفی مرطی داخل ہوا۔ ریزرم خویش خود شیخ اور حکومت کے درمیان قاصد کے فرائض انجام دیتا تھا، اور کہا جناب آپ سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ آپ خفیہ ریڈیو اسٹیشن ہمارے حوالے کردیں اس کے بعد اخوان کو آزادی دی دی جائے گی اور پھر وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے شیخ نے ہنس کر فرمایا" ریڈیو اسٹیشن؟ یہ کیسی بات کرتے ہو۔ جب حکومت اور اس کے سارے جاسوس اس اسٹیشن کا پتہ لگانے سے عاجز رہ گئے ہیں تو میں کیسے تمہیں اس کا پتہ بتا سکتا ہوں۔ اسٹیشن کا ذکر تو میں نے پہلی بار تمہاری زبان سے سناہے۔ وزیر آتش پا ہو کر دھمکی آمیز گفتگو کرنے لگا تو شیخ کو جلال آگیا۔ غضبناک لہجے میں وزیر کے منہ پر فرمایا۔ اجی سن لو اگر اس کا بادشاہ اور اس کی حکومت ازہر کے خواہ مخواه علماء اور شیخ الاسلام یہ سب کے سب اخوان دشمنی پر اتر آئیں اور اخوان سے لڑائی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں تو میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس لاکھوں کا لشکر ہے، بے انتہا فوج و سپاہ اور جنگی ساز و سامان ہے۔ دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے پاس پچاس ہزار نفوس ایسے ہیں جن کا ایک ایک فرد ان میں سے پچاس پچاس بتوں کو سرنگوں کرنے سے پہلے خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ سننے کے بعد وزیر الٹے پاؤں لوٹ گیا اور ہم لوگ بھی واپس چلے آئے۔
۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کی صبح تھی۔ میں سورہا تھا۔ باہر کسی کی آواز نے مجھے جگا دیا ۔ پا کر " حادثہ حادثہ " کہہ کر آواز لگار ہا تھا اور اس روزمرہ کی آواز کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اخبار خرید کر میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اطمینان سے اخبار اٹھایا پہلے ہی صفحے پر جلی سرخیوں میں لکھا تھا شیخ حسن البنا کی وفات "
اخبار میرے ہاتھ سے گر پڑا۔
( عمر عودة الخطيب - سابق وزير خوراک شام کے عربی مقالہ سے ترجمہ )
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues