Al-Risala · March 1977 · page 18

شیخ حسن البناء اور فلسطین

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

کر کے پیک کر لیتے ہیں۔ پپیتا میں یہ خصوصیت اتنی زیادہ ہے کہ گوشت کو اگر کچھ دیر اس کے پتہ میں لپیٹ دیا جائے تو گوشت نرم ہو جائے گا اور پکاتے وقت آسانی سے گل جائے گا۔

پپیتا کی ہر چیز کارآمد ہے حتیٰ کہ اس کی چھال سے میں بھر جاتا ہے اور پھل زیادہ میٹھا ہو جاتا ہے۔ خراشیں صبح کو۔ ۱۰بجے سے پہلے پہلے لگانا چاہئیں رسیاں بھی جاتی ہیں اور اچھے دام پر فروخت ہوتی ہیں۔ تاکہ سکھانے کے لئے پورا دن مل جائے۔ سویرے کے وقت تاہم موجودہ زما میں پپیتا کا سب سے نفع بخش جزو اس کا دودھ ہے۔ پپیتا کا دودھ مذکورہ فائدہ کے علاوہ نہ دوا کے بھی کام آتا ہے اور بہت مفید ہے۔ ملک میں اور ملک کے باہر دواؤں کی مارکیٹ میں اس کی بہت مانگ ہے۔ دودھ بھی زیادہ نکلتا ہے۔ دودھ کو قاعدہ کے مطابق سکھا کر ہوابند ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے مخصوص آلات استعمال ہوتے ہیں۔ احتیاط نہ کرنے سے دودھ خراب ہو جاتا ہے۔

دودھ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پھل جب بڑے ہو جائیں تو ان پر ہلکی خراشیں لگائی جائیں۔ اس کے بعد فوراً دودھ نکلنے لگے گا۔ اس کو شیشہ یا چینی کے کے برتن میں سنبھال لیا جائے بیک وقت زیادہ خراشیں پپیتا کا دودھ نہایت نفع بخش تجارت ہے۔ حکومتی کے ادارے اس کو فوراً خرید لیتے ہیں۔ اس کو برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت کی وجہ سے حکومت پپیتا کی باغبانی کے لئے خصوصی امداد کرتی ہے۔ قراتم (مقبوضہ کشمیر) اور کاشیا (رُوس) تمدن سے دور، زندگی سے قریب کے پہاڑوں میں زندگی نہایت سادہ اور تمدنی سہولتوں سے دور ہے۔ مگر یہاں کے لوگ اعلیٰ انسانی اوصاف Where Life Begins at کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ سو برس اور ڈیڑھ سو برس تک نہایت تندرست حالت میں زندہ رہتے ہیں۔ امریکہ میں ایک لاکھ کی آبادی میں سوسالہ عمر والوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ جب کہ ۱۹۷۰ کی مردم شماری کے مطابق جار جیا اور آذربائی جان کے علاقہ میں سوسالہ عمر رکھنے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تھی۔ (جار جیا میں ۳۹ فی صد، آذربائی جان میں ۳۴ فی صد)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page