شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷
٢٥ پونڈ کے پھل بھی پائے گئے ہیں۔ اس کا درخت ایک سال کے اندر، ۱۰فٹ تک بڑھ جاتا ہے اور پہلے ہی سال پھل دینے لگتا ہے۔ ایک درخت ایک موسم میں ۱۰۰ پونڈ تک پھل دیتا ہے۔ عمر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک ہوتی ہے۔
پپیتی کا پودا لگانے کے لئے جنوری، فروری کا مہینہ سب سے اچھا ہے۔ اگر بارش کے زمانہ میں پودا لگایا جائے تو پانی کی کثرت کی وجہ سے اس کے گل جانے کا ڈر رہتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ جنوری یا فروری میں لگایا جائے تاکہ بارش کے موسم تک درخت بڑا ہو جائے۔ پپیتی نمی زیادہ چاہتا ہے، مگر جڑوں میں پانی کھڑا ہونے سے اس کا اسفنجی تنہ گلنے لگتا ہے۔ نیز اس کی جڑیں زمین میں زیادہ نیچی نہیں جاتیں۔ سطح کے قریب قریب رہتی ہیں۔ لہذا تیز و تند ہوا کے جھونکوں سے اس کو بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پپیتی کا بیج بویا جاتا ہے۔ قلم بھی لگتے ہیں۔ مگر وہ بہت مشکل طریقہ ہے۔ بڑے قد کا میٹھا پھل لے کر اس کا بیج نکال لیا جائے اور آہستہ آہستہ صاف کرکے دو تین دن دھوپ میں خشک کر لیا جائے پھر ڈبوں میں محفوظ کر لیا جائے۔ احتیاط سے رکھا جائے تو بیج تین سال تک کام دیتا ہے۔ پپیتہ کے۸ اونس بیج سے تقریباً ۱۰۰ پود تیار ہوتے ہیں جن سے ایک ایکڑ زمین بھری جا سکتی ہے بیج بونے کے لئے جون سے نومبر تک کا وقت بہترین ہے۔ پپیتی بہت کم جگہ گھیرتا ہے دو درختوں کے درمیان دس فٹ کا فاصلہ بھی کافی ہے۔ پودا لگانے سے پہلے گڑھا کھود کر اس میں تقریباً ۵۰پونڈگلی ہوئی نباتاتی کھاد اور تقریباً پانچ پونڈ ہڈی کا چورا ملا کر گڑھے کو بھر دیا جائے پھر اس پر مقررہ وقت پر پودا لگایا جائے ۔ اس کے بعد ہر سال بارش سے پہلے دو ٹو کرے کھاد اور تقریباً تین پونڈ ہڈی کا چورا اور تھوڑی سی راکھ تنے کے اطراف میں مٹی کھود کر ڈالی جاتی رہے۔ اس ترکیب سے پھل زیادہ آتے ہیں کبھی کبھی نمک کا محلول بھی جڑوں کے قریب ڈ النا چاہئے۔ پپیتا بہت مفید پھل ہے۔ ہر ایک منڈی میں نہایت آسانی سے اچھی قیمتوں پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ پپیتا کی واحد کمزوری یہ ہے کہ وہ دور کے مارکٹ میں بھیجا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ اس کا پھل اندر سے خول ہوتا ہے، دوسرے پھلوں کی طرح بھرا ہوا نہیں ہوتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پکنے کے بعد پھل نرم ہو جاتا ہے اور معمولی دباؤ پڑنے سے خراب ہو جاتا ہے۔
تاہم پپیتا کی بنیاد پر بہت سی تجارتیں وجود میں آتی ہیں جو زیادہ دیر پا اور مفید ہیں ۔
پپیتا میں ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ گوشت کو نرم کرکے جلد چکا نہ دیتا ہے۔ چنانچہ اس کا سفوف یا عرق بنا کر اس مقصد کے لئے فروخت کیا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں میں MEAT TENDERIZER کے نام سے گوشت کو جلدپکانے کی جو دوائیں بکتی ہیں، وہ پپیتا ہی سے تیار کی جاتی ہیں ۔ پپیتا کی یہ خصوصیت اس کو ہاضم بھی بناتی ہے ۔ چنانچہ اس سے ہاضمہ کی گولیاں بھی بنائی جاتی ہیں۔
گوشت کو گلانے یا ہاضمہ کی گولیاں کچے پپیتا سے تیار کی جاتی ہیں ۔ ہرے پھلوں میں ایک مادہ ہوتا ہے جس کو PAPAIN کہتے ہیں۔ یہ مادہ پھلوں کے علاوہ اس کی پتیوں اور ڈنٹھلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس مادہ کو نکال کر سکھا لیتے ہیں اور اس کو سفوف کی شکل میں تیار
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues