شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۰
وہ برطانوی سامراج کا ملازم تھا مگر اس کی ملازمت اس کے لئے اپنے سامراجی آقا کے بمبئی وغیرہ مقامات پر سات سال تک گھومتا رہا۔ اس مدت میں اُسے شدید تلخیاں اور مصیبتیں اٹھانی پڑیں جس کی تفصیل جہاز ایو رنڈی کی داستان نامی کتاب میں (THE TALE OF EVIRENDY) مسٹر جیکب نے بیان کی ہے ۔
اس اذیت ناک سفر کے آخری مرحلے پر جب وہ ایس۔ ایس۔ سیام نامی جہاز کے ذریعہ بمبئی سے عدن جا رہا تھا اُسے جہاز کی مختصر لائبریری اور اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئی ۔
یہ انیسویں صدی کے آخر کا واقعہ ہے۔
خلیج عدن کے جنوبی ساحل پر ز آئکہ (صومالی) میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت ہوگئی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لئے عدن کانسٹیبلری کا دستہ بھیجا گیا تھا۔ اس دستہ کے انگریز کانسٹیبلوں میں ایک ولیم رچرڈ ولیم سن تھا۔ بغاوت ایک مہینہ کے اندر کچل دی گئی۔ تاہم ولیم سن کا مسلمانوں سے میل جول اس کی زندگی میں ایک نئے انقلاب کا سامان بن گیا۔ وہ یہاں برطانوی استعمار کا ایک کارندہ بن کر آیا تھا، مگر جب وہ واپس ہوا تو وہ مسلمان ہو چکا تھا ۔ ولیم سن ایک شریر اور ضدی لڑکا تھا۔ اپنے باپ سے خفا ہو کر ۱۸۸۵ء میں وہ برشل (انگلستان) سے نکل بھاگا۔ اس نے سمندری جہازوں پر ملازمت کی۔ آسٹریلیا، جزیرہ پونیپ فلپائن، ہانگ کانگ، میں ایک انگریزی کتاب ملی۔ یہ کتاب اسلام کے موضوع پر تھی اور اس کا مصنف لیورپول کا ایک وکیل کو لیم تھا۔ کو لیم مسلمان ہو گیا تھا اور اس کا اسلامی نام عبداللہ تھا۔ اس کتاب میں اس نے اپنے مسلمان ہونے کی داستان اور اسلامی تعلیمات کی حقانیت بیان کی تھی۔ کتاب کے مطالعہ سے ولیم سن کو یوں محسوس ہوا کہ وہ جس آب حیات کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا اس کی نشاندہی اس کتاب نے کر دی ہے ۔ یہ کتاب اس نے بار بار پڑھی اور ہر بار اس کا ذہن نئی ایمانی کیفیت سے لذت یاب ہوا ۔
عدن کی بندر گاہ پر اسسٹنٹ ریذیڈنٹ کرنل اسٹیسی کی طرف سے ایک پیغامبر اس کا منتظر کھڑا تھا۔ کرنل اسٹیسی نے اُسے بلایا تھا۔ ولیم سن اس بلاوے پر سخت حیران ہوا، کیونکہ وہ کرنل سے بالکل نا واقف تھا۔ جہاز کے کپتان سے اجازت لے کر وہ برٹش ریزیڈنسی پہنچا۔ کرنل اس سے بڑی گرمجوشی سے ملا۔
"نوجوان تمھارا باپ میرا دوست ہے مجھے اس کا خط کل ہی ملا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ تمھارا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues