شیخ حسن البناء اور فلسطین
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱
خیال انڈین پولیس میں شامل ہونے کا ہے۔ “ ولیم سن نے خالہ کے کہنے پر اپنے والد کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ آخری خط اس نے منیلا کے عذاب خانے سے نجات پانے کے بعد بمبئی پہنچ کر لکھا، اسی میں اس نے انڈین پولیس میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ ”جی ہاں، خیال تو ہے؛“ ولیم سن نے کہا۔ ”خوب عدن کانسٹبلری انڈین پولیس ہی کا ایک حصہ ہے؛ یہاں ایک جگہ خالی ہے نوکری کروگے؟ “ ولیم سن کے لیے یہ ایک زریں موقع تھا۔ قدرت نے خود اس کے لیے عربوں کے درمیان رہنے کا انتظام کر دیا تھا۔ وہ فوراً آمادہ ہو گیا اور چند روز بعد ’سیام‘ سے مستعفی ہو کر پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہو گیا۔ پولیس کی نوکری ولیم سن کے لیے نئے فرائض اور نئے مشاغل لے کر آئی۔ ولیم سن کی تنخواہ پچاس روپے ماہانہ تھی اور رو روئی اور رہائش مفت۔ اس نے چند ماہ کے اندر اندر خاصی رقم پس انداز کر لی۔ اور جلد ہی ایک عربی گھوڑا خرید لیا۔ پولیس کی نوکری ولیم سن کے لیے کچھ ایسی کٹھن نہ تھی۔ اپنی جسمانی ساخت کی بدولت وہ شدید ترین گرمی برداشت کر سکتا تھا۔ تفریح اور مطالعہ کے لیے اسے کافی وقت مل جاتا۔ اسی زمانے میں صومالی ساحل پر زائلہ میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی جسے کچلنے کے لئے پولیس کا دستہ بھیجا گیا۔
ولیم سن اس دستے میں شامل تھا۔ بغاوت جلد ہی فرد ہوگئی۔ پولیس پارٹی دو تین مہینے وہیں رہی۔ اس مہم میں ولیم سن کو جو ترجمان دیا گیا اس کا نام حسن علی تھا۔ وہ صومالی تھا اور بڑا ہی پُر جوش مسلمان، حسن علی برطانوی استعمار کا ملازم تھا۔ مگر یہ ملازمت اس کے لئے ولیم سن کے اوپر اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئی۔ وہ آسٹریلیا کا سفر کر چکا تھا اور خاصی اچھی انگریزی بول لیتا تھا۔ عربی میں تو وہ بڑی روانی سے باتیں کرتا، اسے جب پتہ چلا کہ ولیم سن کو اسلام سے گہری دلچسپی ہے تو وہ اکثر اسلام کے موضوعات پر گفتگو کرنے لگا۔ یہ شناسائی بعد میں گہری دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ حسن علی نے اسے عدن کے ممتاز اور ذی اثر عربوں سے متعارف کرایا۔
ولیم سن جلد ہی اُن میں گھُل مل گیا اور اسلام کی طرف اس کا رجحان کھل کر سامنے آگیا۔ ہندوستان کی طرح عدن میں بھی حکمراں طبقہ مقامی باشندوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ کسی سفید فام کا عربوں کیساتھ اس طرح گھل مل کر رہنا ولیم سن کے افسروں کو سخت ناگوار گزرا۔ بات کرنل اسٹیسی تک پہنچی جس کی سفارش پر اُسے پولیس میں رکھا گیا تھا۔ کرنل نے اسے بُلا بھیجا اور خاصی دیر تک فہمائش کرتا رہا۔
"رنگدار لوگوں سے میل جول سفید فاموں کے لئے زیبا نہیں، آخر حاکما نہ رکھ رکھا ؤبھی تو کوئی چیز ہے۔"
ولیم سن خاموش نہ رہ سکا "عرب رنگداروں کے زمرے میں نہیں آتے۔ " اس نے کہا۔
"ممکن ہے ایسا ہی ہو"۔ کرنل نے جواب دیا "مگر میں تمھارے بھلے کی بات کہتا ہوں، تمھیں دوست منتخب کرنے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہئے اور ہاں یہ بھی سنا ہے کہ تم مسلمان ہونا چاہتے ہو؟ "
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues