کڑکھڑاٹ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳
کڑکھڑاٹ
عرب دنیا کے سب سے بڑے اخبار الاہرام نے کتاب الاسلام تجدی پر مفصل تبصرہ شائع کیا ہے جس کا چربہ یہاں نقل کیا جارہا ہے یہ تبصرہ مشہور مصری ادیب احمد بہجت کے قلم سے ہے ۔
تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ اسلام دو بازوؤں پر قائم ہوتا ہے ۔ ایک عقل دوسرے وجدان ۔ وہ کتابیں جو کامیابی کے ساتھ وجدان کو بیدار کر کے خدا کی طرف لاتی ہوں، بہت کم ہیں۔ اس سے بھی کم وہ کتابیں ہیں جو اللہ کی طرف دعوت کو عملی اعتبار سے پیش کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں ۔ ہندی مصنف وحید الدین خاں کی کتاب (الاسلام یتحدی) دوسری قسم کی انھیں چند کتابوں سے تعلق رکھتی ہے ۔
علم ایک اضافی چیز ہے، جب کہ خدا ایک مطلق ہستی ہے ، پھر مطلق حقیقت کو اضافی زبان میں کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس جال میں پھنس گئے اور بہت سی اسلامی شخصیتوں نے اسی نزاکت کی وجہ سے اس کو پسند نہیں کیا کہ خدا پر علمی استدلال قائم کیا جائے ۔ مگر زیر تبصرہ کتاب اس جال میں پھنسے بغیر اس میدان میں کامیاب ہوئی ہے۔ مصنف کتاب نے اسلام کے مطالعہ کا ایک ایسا علمی انداز اختیار کیا ہے جو بالکل نیا اور انوکھا ہے۔ جدید مادی فکر کے مقابلہ میں دین کو وہ اسی طرز استدلال سے ثابت کرتے ہیں جس سے منکرین مذہب اپنے نظریات کو بريشة مكرم حنين . في الدراسات الاسلامية .. بيا .. انه يحاول اثبات الدين ا بنفس الاسلوب الذي يثبت والسنتهم ليريهم بها أن ما الحقيقة التي كان ينبغي أن ام العقول والالسنة . تفسير الدين .. ومن سلوب الذي يحلو يراها مناسبة للنفاذ الى الذي يعين على بلوغ الهدف، نا حسن الاختيار . م ، وعلى امتداد اربعة عشر بون وسطر المسطرون ملايين ، ولو نخل التاريخ وغربل الله ، لكان كتاب الاسلام . نسأل الله المؤلف الكتاب بالنور ، وعقله بالمعرفة ، اد لا يكف عن الانشاد . ثابت کرتے ہیں ۔ گویا کہ وہ لوگوں کی عقل اور زبان کو ان سے مستعار لے رہے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے انھیں دکھا سکیں کہ اگر وہ اپنی عقل اور زبان کو صحیح طور پر استعمال کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ اصل نتیجہ اس کے برعکس نکل رہا ہے جو وہ اس سے نکالنا چاہتے ہیں ۔
اسلام کے ظہور سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اگر تاریخ کو چھانا جائے اور اللہ کی طرف بلانے والی عمدہ کتابوں کو چھلنی سے چھان کر نکالا جائے تو کتاب الاسلام تیجری بلا شک و شبہ ان میں سے ایک ہوگی۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مصنف کتاب کے عمل کو قبول فرمائے ، ان کے دل کو نور سے، ان کی عقل کو معرفت سے اور ان کی روح کو رضا سے بھر دے اور ان کے قلم کو ایسی روشنائی عطا کرے جو لکھنے سے کبھی ختم نہ ہو الاہرام کے تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ بد قسمتی سے یہ واقعہ کے مطابق نہیں۔ کتاب اپنے انگریزی ایڈیشن کے لئے ابھی کسی آنے والے دن کا انتظار کر رہی ہے !
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues