Al-Risala · March 1977 · page 44

علم کلام . ایک جائزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے، مشاہداتی استدلال اس کے لئے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کر سکیں ۔ ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے ، ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہر اشیاء پر غور کر کے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جانی چاہئے ۔

اب موجودہ زمانہ میں ایک نیا نظریہ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریہ علم کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علم قلیل (بنی اسرائیل - ۸۵) دیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنی چاہئے نہ کہ براہِ راست علم کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علم انسانی دونوں ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ علم نے قرآنی طرز استدل کو، جدید اصطلاح میں ، عین سائنٹفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں علم کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس اہم ترین دریافت کو مدون کرے۔

۲- دوسرا کام قرآنی علم الآثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزرے ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ (ابراہیم - ۵) کہا گیا ہے۔ تاریخ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطہ نظر سے بے حداہم ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ ہر دور میں اپنے نمائندے بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔

یہ اگرچہ تاریخ کا مضمون ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے، بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔ ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ اس لئے قدیم زمانے میں قرآن کے ان اجزاء کی تدوین، خالص تاریخی انداز میں، ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں۔ اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے با قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدوّن کر دیا جائے۔

۳- تیسرا کام آیات آفاق (سجده - ۵۳) کو جدید دریافتوں کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ یہ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلّل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔ قدیم زمانہ میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ اب سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد بڑی حد تک جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانہ میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدوّن کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں، جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔

۴۔ قرآن کے استدلالی حصہ کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیاتِ النفس (حم سجده - ۵۳) کہا گیا ہے یعنی نفسیات انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں ۔ یہ جزو بھی قدیم زمانہ میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیا ر نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے مگر وہ علمی حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تاہم علم انفس کی تحقیقات

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page