Al-Risala · March 1977 · page 36

علم کلام . ایک جائزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

نہ موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو ، اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک مفصل کیا جاسکتا ہے ۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق ثابت ہوگا۔

۵- ایک اور میدان سماجی علوم کا ہے۔ یعنی قانون، سیاست، اقتصادیات، وغیرہ۔ ان موضوعات پر موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ ذخیرہ محض پہلوؤں سے مفید بھی ہے۔ مگر اصولاً میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ سماجی موضوعات کو علم کلام میں داخل کیا جائے ۔ اس کی وجہ سماجی علوم کی نوعیت ہے۔ سماجی علوم تمام کے تمام قیاسی علوم ہیں اور غالباً وہ ہمیشہ قیاسی رہیں گے۔ اگر ہم علم کلام میں ان کو استعمال کریں تو دوبارہ نئی شکل میں ہم وہی غلطی کریں گے جو عباسی دور کے متکلمین نے کی تھی۔ انھوں نے فلسفیانہ قیاسات پر علم کلام کی بنیاد رکھ دی۔ ہم سماجی قیاسات پر علم کلام کو مرتب کر ڈالیں گے۔ اس لئے ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ سماجی علوم کو فقہ کا موضوع رہنا چاہئے نہ کہ علم کلام کا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سماجیات کو فقہی نظام کی حیثیت سے مرتب کیا جائے نہ کہ ان پر عقلیات اسلام کی بنیاد رکھی جائے ۔ ۶- آخر میں میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رو رو جنا علم کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ مقاصد کے اعتبار سے اس کو علم کلام کا سب سے بڑا جزو ہونا چاہئے۔ یہ ہے سائنٹفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر تقریباً تمام کتابوں پر کسی نہ کسی طرح، کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر، سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانہ میں تیار ہوا ہے ، تقریباً سب کا سب ، علم کلام کے خانہ میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے ، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علم کلام بنا دیا جائے۔

موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات، کسی تعبیری یا کلامی اضافے کے بغیر اس کے سامنے رکھ دی جائے۔ اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قارئ کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر ایسی کتابوں کے ذریعہ جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹفک اسلوب کا دلدادہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹفک اسلوب رواج نہ پاسکا۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے۔ بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔

موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتا بیں اسلام پر لکھی ہیں۔ مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو، حالاں کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیمات قرآن، سیرت، حدیث، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام (نہ کہ تاریخ فتوحات)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page